خیبرپختونخوا:چائلڈ لیبر میں تشویشناک اضافہ، 73.8 فیصد بچے محنت مزدوری پر مجبور

28.5 فیصد بچے رات گئے تک مزدوری کرنے پر مجبور، 16.2 فیصد بچوں کو شدید گالم گلوچ اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے: رپورٹ
 پشاور(یواین پی)خیبرپختونخوا کے ایک حالیہ سروے رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ چائلڈ لیبر کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں 17 سال تک کی عمر کے 9 فیصد بچے مشقت پر مجبور ہیں۔سروے کے مطابق صوبے میں چائلڈ لیبر سے وابستہ بچوں میں سے 73.8 فیصد بچے سخت ترین قسم کی مشقت کا شکار ہیں جو ایک سنگین سماجی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے، بنوں ڈویژن میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ 11.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ شرح سب سے کم 3.7 فیصد ہے۔سروے رپورٹ کے مطابق 28.5 فیصد بچے رات گئے تک مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، 16.2 فیصد بچوں کو کام کے دوران شدید گالم گلوچ اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رپورٹ میں چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات غربت، قدرتی آفات، معاشی بدحالی اور مہنگائی کو قرار دیا گیا ہے