پی ٹی آئی کے کچھ سیاہ قسم کے ارادے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ہی معاملات طے کئے جائیں گے خواجہ آصف

 مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں، کے پی حکومت دہشتگردوں کی اتحادی بنی ہوئی ہے، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا اگر فیصلہ ہوا تو یہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے
 محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دینے میں بھی بدنیتی ہے، کل پھر یہ کہیں گے ہمارا تو ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ‘  آئین میں گورنرراج کی گنجائش ہے   
اسلام آباد(آئی این پی )وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ معاملات طے کرنے والے بانی پی ٹی آئی سے ہی معاملات طے کریں گے، مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں،خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی بنی ہوئی ہے، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا اگر فیصلہ ہوا تو یہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے،   آئین میں گورنرراج کی گنجائش ہے اس کے استعمال پر تحفظات ہیں۔ایک انٹرویو میں   خواجہ آصف نے    عندیہ دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سے ہی معاملات طے کیے جائیں گے، انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی محمود اچکزئی، ناصر عباس کے ذریعے مذاکرات چاہتی ہے۔وزیردفاع نے کہا کہ  میں سمجھتا ہوں آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے کچھ سیاہ قسم کے ارادے ہیں، محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دینے میں بھی بدنیتی ہے، کل پھر یہ کہیں گے ہمارا تو ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ کسی پارٹی پر پابندی اور گورنر راج نہیں لگنا چاہیے ،  آئین میں گورنرراج کی گنجائش ہے اس کے استعمال پر تحفظات ہیں۔تحریک انصاف کو اپنی شناخت برقرار رکھنی چاہیے،بانی پی ٹی آئی، جنرل  (ر)باجوہ اور فیض حمید ہمیں طالبان بسانے کے حوالے سے بریفنگز دیں۔ ونڈر بوائے سے متعلق بات پر تردیدی بیان آ گیا ہے۔  خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اتحاد میں شامل تمام جماعتیں مذاکرات میں شامل ہونی چاہیے، پی ٹی آئی مستقبل میں مذاکرات سے اظہار لاتعلقی کرسکتی ہے‘ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہ صاحب (شفیع جان) واضح طور پہ ٹی ٹی پی کو من حیث الجماعت دہشت گرد کہنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ صاحب ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد جماعت کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص جو سمجھتا ہے کہ ٹی ٹی پی کی صفوں میں دہشت گردوں کے علاوہ محب وطن پاکستانی بھی ہیں آپ ان کو کیا شناخت کریں گے۔