نجکاری میں اچھی بولی کیوں نہیں ملتی، فاروق ستار نے سو باتوں کی ایک بات کردی

نجکاری میں اچھی بولی کیوں نہیں ملتی، فاروق ستار نے سو باتوں کی ایک بات کردی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین فاروق ستار کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں مختلف امور پر بحث کی گئی۔

 اجلاس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن نے ایچ بی ایف سی (ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن) کی نجکاری کے بارے میں تفصیل فراہم کی اور بتایا کہ اس معاملے پر فریقین کے درمیان حتمی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اب نجکاری بورڈ اور کابینہ کمیٹی سے اس معاہدے کی منظوری لی جائے گی۔سیکرٹری نے بتایا کہ ایچ بی ایف سی کی نجکاری میں دلچسپی رکھنے والی پارٹی نے اہم شرائط پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد قیمت کے تعین کے لیے خریدار کو طلب کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی کے باعث مستقبل میں گھروں کے لیے فنانسنگ کی سہولت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔چیئرمین فاروق ستار نے اجلاس میں کہا کہ ایچ بی ایف سی کی حتمی شرائط کو کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے، تاکہ مکمل وضاحت مل سکے۔ اجلاس میں رکن کمیٹی خواجہ شیراز محمود نے سوال اٹھایا کہ نجکاری کے عمل میں صرف ایک ہی بولی دہندہ کیوں رہ گیا ہے؟ اور آیا حکومت نجکاری کے معاملے میں سنجیدہ ہے یا صرف نمائشی کارکردگی دکھا رہی ہے؟ انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بھی سوال کیا اور کہا کہ وہاں بھی صرف ایک بولی دہندہ تھا جس نے سسٹم کے مطابق درخواست دی۔

سیکرٹری نجکاری کمیشن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایچ بی ایف سی کی نجکاری کے عمل میں شرائط سخت تھیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ابتدا میں دو بولی دہندہ موجود تھے، لیکن ایک اسٹیٹ بینک کی شرائط کو پورا نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے ایک ہی بولی دہندہ بچا۔رکن کمیٹی سحر کامران نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے اخراجات کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ ان اخراجات کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سیکرٹری نے کہا کہ وہ فوری طور پر پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق اخراجات فراہم نہیں کر سکتے، لیکن بعد میں مکمل تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔اس موقع پر فاروق ستار نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں ارنسٹ اینڈ ینگ کی کارکردگی پر نظر ڈالنا ضروری ہے اور اس کے اخراجات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔

 انہوں نے مزید کہا، "ہمیں یوسف بننے میں وقت لگے گا، تب ہی مول لگے گا"، جس کا مقصد نجکاری کے عمل میں ممکنہ مشکلات اور وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔کمیٹی نے اس موقع پر حکومت کے نجکاری کے عمل اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھائے اور یہ فیصلہ کیا کہ مزید تحقیقات اور تفصیلات کے بعد کارروائی کی جائے گی۔