سعودی عرب : صحرائی لگڑری ٹرین ،800 میل سفر کرے گی

ریاض(نیٹ نیوز) سعودی عرب اپنی پہلی لگڑری ٹرین سروس متعارف کرانے کے لیے تیار ہے جو صحرائی علاقے میں 800 میل تک سفر کرے گی۔اس منفرد ٹرین کو نومبر 2025 میں آپریشنل کیے جانے کا امکان ہے جو سعودی دارالحکومت ریاض کو قریات شہر سے ملائے گی۔اس پراجیکٹ پر سعودی عرب ریلویز کی جانب سے اٹلی کے Arsenale گروپ کے ساتھ مل کر کام کیا جارہا ہے۔یہ اطالوی گروپ لگڑری ٹرینوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔اس ٹرین سروس کو ڈریم  آف دی ڈیزرٹ کا نام دیا گیا ہے اور 800 میل طویل روٹ کے دوران یہ ٹرین سعودی عرب کے حیران کن صحرائی مقامات سے گزرے گی۔اس ٹرین میں 40 پرتعیش بوگیاں موجود ہوں گی جن پر مسافروں کو ایک یا 2 راتوں کے ٹور بک کرانے کی سہولت دستیاب ہوگی۔یہ نئی لگڑری ٹرین سروس بنیادی طور پر سیاحوں کو سعودی عرب میں لانے کے منصوبوں کا حصہ ہے۔سعودی ریلوے کمپنی کے مطابق ڈریم  آف دی ڈیزرٹ سے سیاحوں اور مقامی رہائشیوں کو سعودی عرب کے مزید خطے دیکھنے کا موقع پرتعیش سہولیات کے ساتھ ملے گا۔اس کے ذریعے سیاح سعودی عرب میں واقع یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقامات اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل نیچرل ریزرو کو بھی دیکھ سکیں گے۔Arsenale گروپ کے چیف ایگزیکٹو Paolo Barletta کے مطابق سعودی عرب پہلا ملک بنے گا جہاں ٹرین میں لوگوں کی لگڑری میزبانی کی جائے گی۔اس پراجیکٹ پر 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز خرچ کیے جانے کا امکان ہے اور سعودی حکام کے مطابق یہ ٹرین لگڑری سفر کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو بدل دے گی