الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے خلاف چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس خارج کر دیا۔

 ریفرنس میں سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ نیب کے زیر التواء ریفرنس کے باوجود وہ ٹیکنوکریٹ سیٹ کے لیے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتے۔

ریفرنس میں اٹھائے گئے نکات: ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سیف اللّٰہ ابڑو کے حلف نامے میں زرعی آمدن، زیر کفالت افراد اور اثاثوں کے بارے میں فراہم کردہ معلومات گمراہ کن ہیں۔ اس کے علاوہ، کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کی گئی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اپنے بچوں کی ملکیت والی زرعی اراضی کو چھپانے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ کا اقدام: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اس معاملے کو آئین کے آرٹیکل 63 (2) کے تحت الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا، اور درخواست کی تھی کہ وہ فیصلہ کرے کہ کیا سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو سینیٹ کی رکنیت کے لیے نااہل ہو چکے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ: الیکشن کمیشن نے اس ریفرنس پر غور کے بعد اسے مسترد کر دیا اور سیف اللّٰہ ابڑو کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی سینیٹ کی رکنیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو ایک قانونی فتح حاصل ہوئی ہے، اور سیف اللّٰہ ابڑو کی سینیٹ رکنیت برقرار رہی۔