کم عمری کی شادی ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف لڑکیوں کے بچپن اور خوشیوں کو چھین لیتا ہے بلکہ ان کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے جنسی و تولیدی صحت کے ادارے (یو این ایف پی اے) نے پاکستان میں اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مختصر فلم "سلمیٰ" بنائی ہے، جو ان لڑکیوں کی کہانی بیان کرتی ہے جن کی زندگیوں کو کم عمری کی شادیوں نے متاثر کیا۔فلم "سلمیٰ، خاموش چیخ" ایک دیہی علاقے کی کم عمر لڑکی کی کہانی ہے، جس کے خواب اور خوشیاں جلدی شادی کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہیں۔ یہ لڑکی ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں، صحت کے مسائل، سماجی دباؤ اور بدنامی کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ 16 منٹ دورانیے کی فلم ہے، جسے محسن علی اور رابعہ قادر نے تحریر کیا اور ابرار الحسن اور حنا امان نے پروڈیوس کیا۔ فلم کی ہدایت کاری محسن علی نے کی ہے اور سلمیٰ کا مرکزی کردار چائلڈ اسٹار مرحبا نور نے ادا کیا ہے۔فلم میں خاص طور پر کم عمری کی شادی اور حمل کے دوران لڑکیوں کو درپیش جسمانی اور ذہنی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے، جیسے خون کی کمی، زچگی کی پیچیدگیاں، اور موت کا خطرہ۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے مطابق، دنیا بھر میں 20 فیصد لڑکیوں کی شادی نوعمری میں ہو جاتی ہے، اور جنوبی ایشیا میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے جہاں 40 فیصد لڑکیاں نوعمری میں شادی کے بندھن میں بندھتی ہیں۔ پاکستان میں ایک کروڑ 90 لاکھ خواتین ایسی ہیں جن کی نوعمری میں شادی ہوئی، جن میں سے 54 فیصد لڑکیاں 18 سال کی عمر سے پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ماں اور بچے کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یو این ایف پی اے کے مطابق کم عمری کی شادی لڑکیوں میں بچے کی قبل از وقت پیدائش، فسچولا، جنسی بیماریوں جیسے خطرات کو بڑھاتی ہے، جو ان کی موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کی تعلیم اور تربیت بھی رک جاتی ہے جو ان کی معاشرتی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔