پاکستان، وسطی ایشیا اور امریکہ کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی :نیشنل انٹرسٹ
واشنگٹن (آن لائن) امریکی جریدہ دی نیشنل انٹرسٹ نے بی ایل اے کی دہشت گرد حکمتِ عملی اور سرحد پار روابط کو بے نقاب کر دیا بی ایل اے دہشت گردی کی بدلتی نوعیت کے خطرناک مرحلے کی عکاسی کرتا ہے جسے امریکا نظرانداز نہیں کر سکتا۔ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق محدود اور منتشر حملوں کو ڈیجیٹل پروپیگنڈا کے ذریعے بڑی کامیابی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی اب روایتی شورش نہیں بلکہ کم لاگت اور زیادہ خوف پھیلانے کا ماڈل بن چکی ہے۔ پاکستان، وسطی ایشیا اور امریکا کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ نیشنل انٹرسٹ کیمطابق بی ایل اے کے پاس علاقہ کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں مگر منتشر گروپس کا نیٹ ورک دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے ‘ ایران کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی آوازیں بلوچ دہشت گرد منصوبہ سازوں کا اہم ہتھیار بن رہی ہیں۔ بی ایل اے کی سرگرمیاں پاکستان سے آگے بڑھ کر پورے خطے کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ نیشنل انٹرسٹ کاکہنا ہے کہ ایران میں عدم استحکام بی ایل اے جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کی طاقت بڑھا سکتا ہے