ایبٹ آباد:مغوی لیڈی ڈاکٹرکی لاش بر آمد ،

 ایبٹ آباد،اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)بینظیر شہیدہسپتال کی مغوی لیڈی ڈاکٹر وردا کو قتل کر دیا گیا، ڈاکٹر کے قتل میں سہیلی ملوث نکلی،پولیس نے ملزمہ ردا اور اس کیشوہر وحیدجدون کودوبارہ پکڑلیا۔تفصیل کے مطابق ڈاکٹر وردا کے اغوا کے بعد قتل کا معمہ پولیس نے حل کر لیا،پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کی نشاندہی پر ڈاکٹر وردا کی لاش دور افتادہ پہاڑی علاقیٹھنڈیانی روڈ لڑی بنوٹا سے بر آمد کرکے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردی ہے،ڈاکٹر وردا کے والد کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر وردا کو ان کی سہیلی ردا ہسپتال سے اپنے ساتھ لے گئی تھی، ملزمہ ردا نے ڈاکٹر وردا کو بطور امانت رکھا گیا 67 تولے سونا دینا تھا،ردا نے ڈاکٹر وردا کو اپنے زیر تعمیر گھر سے ڈکیت اورمنشیات فرش گینگ کیسرغنہ شمریز اور ندیم کے حوالے کر دیا، جنہوں نے ڈاکٹر وردا کو لڑی بنوٹا لے جا کر قتل کر دیا۔پولیس نے واقعے میں ملوث 4 ملزموں ندیم زیب، ردا جدون،اس کیشوہروحیدجدون اور پرویز کو گرفتار کرلیا ،جبکہ مرکزی ملزم شمریز کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں،گرفتار ملزموں نے اعتراف کیا کہ ڈاکٹر وردا کو اغوا اور قتل کرکے لڑی بنوٹا جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کیا گیا، ملزم پرویز کی نشاندہی پر ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز کی قیادت میں لاش بر آمد کی۔عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے ابتدائی پولیس کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھانہ کینٹ کا ایس ایچ او بروقت قدم اٹھاتا تو ڈاکٹر ورداکی جان بچ سکتی تھی۔اس تاخیر کو مجرمانہ غفلت قرار دیا جا رہا ہے اور مختلف حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ متعلقہ افسر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔لاش ملنے کے بعد ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کردیا اور شاہراہ ریشم بلاک کردی۔اسلام آبادسے سٹاف رپورٹرکے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی۔