امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کے بجائے الیکٹیبلز کی حکومت ہے، جنہوں نے ایک کنسورشیم بنا کر اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے آئین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کو اس کے ضوابط کے مطابق کام کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا کہ سب کچھ ایک ہی گروہ کرے گا، یہ ایک غلط سوچ ہے۔انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فارم 45 والی حکومت میں بھی 7 فیصد ارب پتی لوگ ہیں، جو عوام کے مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی ضرورت ہے، تاہم آئی پی پیز سے بات چیت ہو رہی ہے اور اس کا اثر عوام کے بلوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انرجی بحران پر قابو پایا جائے گا تو پاکستان کی ایکسپورٹس میں بھی بہتری آئے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی تبدیلیوں کو سود کی شرح میں کمی سے جوڑا، اور کہا کہ اس میں چند بڑے نام فیصلہ کرتے ہیں کہ مارکیٹ کہاں جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار عوام کو ریلیف دینے اور ٹیکسز کو کم کرنے میں ہے، کیونکہ کراچی کے آدھے شہر میں پچھلے دس دن سے پانی نہیں آ رہا، اور اربوں کھربوں کے منصوبے بننے کے باوجود سڑکیں پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔انہوں نے ملک میں نجکاری کے عمل پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان میں جو نجکاری ہو رہی ہے، وہ صرف نام کی ہے۔ مثال کے طور پر، کے الیکٹرک کی نجکاری کے بعد بھی لائن لاسز سب سے زیادہ ہیں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ نجکاری کے نام پر لوٹ مار کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان لوگوں سے حساب لیا جائے جنہوں نے قومی اداروں کو تباہ کیا، اور یہ پورا دھندہ ختم کر دیا جائے گا۔