جو بائیڈن کی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں پیچیدہ چیلنجز کے باوجود ایک پُر اثر حکمت عملی اختیار کی ہے۔
حالیہ مہینوں میں ان کا نقطہ نظر مختلف عناصر پر مبنی ہے جن میں سفارت کاری، اقتصادی دباؤ اور فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں مزید آگے بڑھیں، خاص طور پر اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے میں، سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کی کوششوں کے ساتھ۔ اس کے علاوہ، امریکا نے اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کیں تاکہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی روک تھام کی جا سکے بائیڈن کی اس حکمت عملی میں مشرق وسطیٰ میں موجودہ بحرانوں پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں انہوں نے ایران کی پراکسی فورسز کے خلاف حملے کیے ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ ان کی اس حکمت عملی کا مقصد امن کی کوششوں کو تقویت دینا اور اس خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے
یہ حکمت عملی ایک پیچیدہ اور متوازن کوشش ہے جس میں امریکہ کا مقصد خطے میں دیرپا امن قائم کرنا اور اسرائیل کے ساتھ سعودی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ تاہم، اس کا چیلنج یہ بھی ہے کہ اسرائیل کی حکومت اور اس کے اندرونی سیاسی تعلقات اس حکمت عملی کے لیے ایک بڑا رکاوٹ بن سکتے ہیں۔