پی ڈی ایم اے پنجاب کا دریائے ستلج ، ملحقہ نالوں میں سیلاب بارے الرٹ جاری
گلگت،لاہور( خصوصی رپورٹ )گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے کا عمل تیزہونے پر دریائے ہنزہ میں طغیانی، کٹائوکے باعث شاہراہ قراقرم بہہ گئی ،پاکستان اور چین کے مابین زمینی رابطہ منقطع ، پاک چین بارڈر پر تفریح کیلئے گئے سیاحوں کی بڑی تعداد پھنس گئی۔دوسری طرف پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب بارے الرٹ جاری کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا نے کہا ہے کہ بالائی ہنزہ کے گائوں مورخوں کے مقام پر دریائی کٹائو کے باعث شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ بہہ گیا ہے،بحالی کیلئے مشینری روانہ کر دی۔جبکہ وسطی ہنزہ میں ششپر گلیشیئر پگھلنے میں تیزی آنے سے نالے میں شدید طغیانی آگئی اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں متعددمکانات کو خالی کرا لیا گیا۔ ادھر پی ڈی ایم اے پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ 13 اگست سیملک کے بالائی علاقوں میں مون سون کے نئے سپیل کا امکان ہے اوراس وجہ سے دریائے ستلج میں پانی کے اضافے کا خدشہ ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافے کا امکان ہے،گزشتہ ہفتے بھارتی ڈیمزبھاکڑا اور تھین میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوا،صوبے بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کردیا۔ علاوہ ازیں دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 40 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 39 ہزار 900 کیوسک ، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 24 ہزار 500کیوسک اور اخراج 8 ہزارکیوسک ہے ، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد 63 ہزار کیوسک اور اخراج 32 ہزار 900 کیوسک ہے۔