فضائی حدود کی بندش سے پاکستان کو 4 ارب 10 کروڑ روپے کا خسارہ

 فضائی حدود کی بندش سے یومیہ 100 سے 150 بھارتی طیارے متاثر ہوئے، فضائی ٹریفک میں تقریباً 20 فیصد کی کمی ہوئی
قومی خود مختاری اور دفاع کو معاشی مفاد پر مقدم تصور کیا جاتا ہے، وطن عزیز کا تحفظ اولین ترجیح ہے:وزیردفاع کا قومی اسمبلی میں تحریری جواب
 اسلام آباد (یواین پی) بھارت کے ساتھ رواں برس مئی میں معرکہ حق کے دوران فضائی حدود کی بندش سے پاکستان کو 4 ارب 10 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے معرکہ حق کے بعد بھارت کیلئے فضائی حدود کی بندش سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردیں، اس حوالے سے اپنے تحریری جواب میں انہوں نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ فضائی حدود کی بندش سے پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کو 4 ارب 10 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا، پاکستان کی فضائی حدود 24 اپریل سے 30 جون تک بند رہی۔انہوں نے بتایا کہ فضائی حدود کی بندش سے یومیہ 100 سے 150 بھارتی طیارے متاثر ہوئے، فضائی ٹریفک میں تقریباً 20 فیصد کی کمی ہوئی، اسی طرح 2019ء میں بھی فضائی حدود کی بندش سے خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس وقت ایوی ایشن اتھارٹی کو اوور فلائنگ آمدن کی مد میں تقریباً 7 ارب سے زائد روپے کا خسارہ ہوا اور حالیہ کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش سے بھی مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔وزیر دفاع کے تحریری جواب میں بتایا گیا  قومی خود مختاری اور دفاع کو معاشی مفاد پر مقدم تصور کیا جاتا ہے، وطن عزیز کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، قومی خود مختاری اور سلامتی کے دفاع کا معاملہ ہو تو کوئی قیمت زیادہ نہیں ہوتی