ارکان اسمبلی کی شکایات پر نوٹس ‘ 201 کے بجائے 301یونٹ پر اضافی بل بھیجنے کی تجویز‘وزیراعظم نے معاملے کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی بنا دی

عالمی برادری فلسطین کو تسلیم کرے شہبازشریف
 301 یونٹس استعمال  کرنے پر نان پروٹیکٹڈ شرح لاگو ہونے کا امکان ، یہ تجویز بھی ہے 201 یونٹ صرف اسی ماہ لاگو ہوں‘ 201  یونٹ والی سلیب نیپرا اور وزارت پاور نے جان بوجھ کر لاگو کروائی تھی:ذرائع
اسرائیلی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر کا غیر قانونی کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہیں‘یہ   تباہ کن جنگ میں خطرناک اضافے کے مترادف ہے‘امن کا امکان ختم ہو جائیگا:وزیراعظم
سیاحت کے فروغ کیلئے قابل عمل اور جلد تکمیل والے پراجیکٹ ترتیب دیئے جائیں‘آئی ٹی برآمدات 30 ارب ڈالر تک لیجانے کیلئے ڈیجیٹل ایکو سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے:اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے پروٹیکٹڈ صارفین کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لے لیا، اعلی سطح کی کمیٹی بنائی جائے گی جو پروٹیکٹڈ صارفین کی حد 301 یونٹ کرنے پر غور کرے گی۔ذرائع کے مطابق 201 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین 6 ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹگری سے نکل جاتے ہیں، صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹگری سے نکلنے کے بعد 6 ماہ تک تقریبا 5 ہزار روپے ماہانہ اضافی بل دینا پڑتا ہے، کمیٹی پروٹیکٹڈ کیٹگری کو 200 یونٹس تک محدود رکھنے یا 300 یونٹس تک ریلیف دینے پر رپورٹ تیار کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ پروٹیکٹڈ کیٹگری 201 یونٹس کی بجائے 301 یونٹس تک کرنے کی تجویز زیر غور ہے، وزیراعظم شہباز شریف کو صارفین بجلی سے ہونے والی زیادتی سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اراکین اسمبلی کا بھی موقف ہے  یہ صارفین سے زیادتی ہے کہ 200 سے زائد صرف ایک یونٹ پر اگلے چھ ماہ تک اضافی 5 ہزار روپے بل ادا کریں، پروٹیکٹڈ سلیب کے معاملے پر اعلی سطح کی کمیٹی بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کمیٹی سارے معاملے کا جائزہ لے کر کابینہ میں تجاویز پیش کرے گی، کمیٹی کی تجاویز پر 200 یونٹس والا معاملہ حل ہو سکے گا، 200 یونٹ استعمال کم آمدنی والا ہی کرتا ہے، موجودہ حکومت غریب آدمی کو ریلیف دینے کے لئے  ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے  301 یونٹس استعمال پر نان پروٹیکٹڈ شرح لاگو ہونے کا امکان ہے، یہ تجویز بھی ہے کہ 201 یونٹ صرف اسی ماہ لاگو ہوں۔وزارت توانائی کے ذرائع نے بتایا کہ 201 والی سلیب نیپرا اور وزارت پاور نے جان بوجھ کر لاگو کروائی تھی۔دریں  اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ پر فوجی قبضے کے اسرائیلی حکومت کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر زور دیا جس کا دارالحکومت القدس ہو۔انہوںنے اسرائیلی کابینہ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر کا غیر قانونی اور ناجائز کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے خلاف پہلے سے جاری  تباہ کن جنگ میں خطرناک اضافے کے مترادف ہے، فوجی کارروائیوں کی یہ توسیع پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید بگاڑ دے گی اور خطے میں امن کے کسی بھی امکان کو ختم کردے گی۔ ہمیں اس جاری المیے کی اصل وجوہات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا طویل، غیر قانونی قبضہ ہے اور جب تک یہ قبضہ برقرار رہے گا، امن ایک خواب ہی رہے گا ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی بلاجواز جارحیت کو فوری طور پر روکنے، بے گناہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور غزہ کے لوگوں تک اشد ضروری انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔سیاحت کے فروغ سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف نے اسلام آباد، آزادکشمیر، گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے جلد لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کر دی۔وزیراعظم نے کہا کہ قدرتی وسائل کی بدولت پاکستان دنیا میں منفرد اور اہم مقام رکھتا ہے پاکستان کے پاس دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے، سیاحتی علاقوں میں بہترین انفرااسٹرکچر کی تعمیر اور اعلی معیار کی تفریحی سہولتیں ناگزیر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کے فروغ کیلئے قابل عمل اور جلد تکمیل والے پراجیکٹ ترتیب دیے جائیں بہترین ہوٹلز، ریزارٹس، تفریحی مقامات کی تعمیر کیلئے حکمت عملی بنائی جائے‘ین آئی ٹی بی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات سے متعلق اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے و زیراعظم نے کہا  پاکستان کی ڈیجیٹائزیشن سے معیشت کی ترقی اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہے ہیں، انہوں نے  وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے برآمدات کے گزشتہ برس کے ہدف، 3.8 ارب ڈالر کے حصول کی پذیرائی اور 30 ارب ڈالر کے ہدف کو عبور کرنے کے لیے آئندہ برسوں کے سالانہ اہداف اور درکار اقدامات پر جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔