پمپس پر ڈیجیٹل ادائیگی کے اقدامات کیے جائینگے ،850 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ متوقع
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ میں پٹرول سمیت ہر قسم کی نقد خریداری کی حوصلہ شکنی کے لیے اضافی رقم لینے کی تجویز پیش کر دی۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق بجٹ 26-2025 میں نقد خریداری کی حوصلہ شکنی پر مبنی تجاویز فنانس بل کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے پٹرول پمپ سے نقد تیل خریدنے پر 3 روپے تک اضافی وصولی کی تجویز زیر غور ہے اس سے پٹرول پمپ پر ٹیکس چوری اور ملاوٹ پر قابو پانے میں مدد ملے گی، پٹرول پمپس پر نقد کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگی ، کیو آر کوڈز، ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈز اور موبائل ادائیگی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے مینو فیکچررز اور درآمد کنندگان نقد فروخت پر اضافی 2 فیصد ٹیکس لے سکیں گیاس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ متعدد اجلاس ہو چکے ہیں، دکانوں پر نقد خریداری پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ ریسٹورنٹس پر پہلے ہی کارڈ سے ادائیگی پر ٹیکس کی چھوٹ ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کی مد میں زیادہ ریلیف نہیں مل سکے گا، تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف معمولی نوعیت کا ہو گا۔ذرائع نے بتایا یونٹ منیجر، جیولرز، شادی ہالز، ڈاکٹرز اور وکلا کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔دوسری طرف آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نان فائلرز پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق مختلف ٹیکس تجاویز پر کام جاری ہے بجٹ میں نان فائلرز کے یومیہ 50 ہزار سے زیادہ رقم نکلوانے پر اضافی ٹیکس کی تجویز ہے نان فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھ کر1.2 فیصدکرنا متوقع ہے۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے 850 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے۔مقامی تیار کردہ گاڑیوں پر جی ایس ٹی کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز ہے جب کہ پٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی ہے۔