جمعرات کی صبح آبنائے ہرمز میں بڑی تعداد میں جہاز پھنس گئے، جس سے عالمی بحری آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ میں کئی جہاز رکے ہوئے ہیں، جنہیں سکیورٹی خدشات اور نئی پابندیوں کی وجہ سے حرکت نہیں دی جا رہی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو پاسداران انقلاب کور نیوی کے ساتھ پیشگی رابطہ کرنا ہوگا اور مخصوص راستوں کا استعمال لازمی ہوگا۔یہ اقدامات خلیج فارس میں کشیدہ صورتحال اور اینٹی شپ بارودی سرنگوں کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس کا مقصد تہران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ایران اور پاکستان کے حکام کے مطابق جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، تاہم اسرائیل نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے لبنان میں فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔