امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ اگر لبنان کے معاملے پر کوئی معاہدہ متاثر ہوتا ہے تو یہ ایران کا اپنا فیصلہ ہوگا کیونکہ لبنان کبھی بھی سیزفائر معاہدے کا حصہ نہیں رہا۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے شروع ہو رہے ہیں اور یہ عمل پاکستان کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔جے ڈی وینس کے مطابق ایران نے 10 نکاتی تجاویز پیش کی ہیں، جو مختلف مواقع پر دی گئیں، تاہم حالیہ نکات زیادہ واضح ہیں اور انہیں امریکی و پاکستانی مذاکرات کاروں نے بہتر طور پر سمجھا ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کسی معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، مگر اب امریکا کی توجہ مذاکرات پر مرکوز ہے۔
لبنان کے حوالے سے، جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے لبنان کو سیزفائر میں شامل کرنے پر کبھی اتفاق نہیں کیا اور ایران اس معاملے پر غلط فہمی میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام میں کچھ عناصر مذاکرات کے مخالف ہیں، اس لیے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، لیکن امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے اور بات چیت جاری رہے گی۔مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے معاملات بھی زیر غور ہو سکتے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔