10 ہزار روپے فیس مقرر کرنے کی سفارش ، 5 سال کی مدت کیلئے ہوگی
اسلام آباد(آئی این پی ) اوورسیز پاکستانیز فا ئونڈیشن (او پی ایف )نے حکومتِ پاکستان کو اہم تجویز پیش کی ہے کہ تمام سمندر پار پاکستانیوں کیلئے فائونڈیشن کی رکنیت کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس رکنیت کیلئے 10 ہزار روپے فیس مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو کہ 5 سال کی مدت کے لیے ہوگی۔ او پی ایف کے چیئرمین سید قمر رضا نے خلیج ٹائمز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ تمام سمندر پار پاکستانیوں کو لازمی طور پر او پی ایف کا رکن ہونا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر تمام پاکستانی اس فانڈیشن کے رکن بن جاتے ہیں، تو ادارے کے پاس موجود مالی وسائل کی بدولت وہ ان کی بہتر خدمت کر سکیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارتِ سمندر پار پاکستانیز نے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے اور اب یہ حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو بھیج دی گئی ہے۔سید قمر رضا نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فائونڈیشن ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت دنیا بھر میں مقیم ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے سہولیات کا ایک وسیع سلسلہ متعارف کروایا جائے گا۔اس کا اطلاق متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک، مشرقِ وسطی اور دنیا کے دیگر تمام خطوں میں رہنے والے پاکستانیوں پر ہوگا۔سمندر پار پاکستانی اپنی سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے بعد، توقع ہے کہ رواں برس یہ رقم 41 سے 42 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا، جو پچھلے سال کے 24 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔صرف فروری 2026 کے مہینے میں پاکستان کو 3.3 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو کہ سالانہ بنیادوں پر 5.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان ترسیلات میں سب سے زیادہ حصہ درج ذیل ممالک کا رہا۔ متحدہ عرب امارات: 696.2 ملین ڈالر،سعودی عرب : 685.5 ملین ڈالر،برطانیہ : 532 ملین ڈالر،امریکا : 319.5 ملین ڈالر،واضح رہے کہ صرف متحدہ عرب امارات میں 20 لاکھ سے زائد پاکستانی زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔