ساری دنیا پاکستان کی تعریفیں کرنے لگی‘سفارتی کامیابی کا اعتراف شہبازشریف کو نوبیل ایوارڈ دیا جائے:سابق اطالوی وزیراعظم

تمام فریقین  معاہدے کی مکمل پابندی کریں : سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ‘جنگ بندی کو طویل المدتی معاہدے میں بدلنے کی پوری کوشش کرینگے:برطانوی وزیراعظم 
 پاکستان کا خاموش، موثر سفارتکاری کا شکریہ:برطانوی ہائی کمشنرجین میریٹ‘ یہ معاہدہ دانشمندی کی جیت ہے،روسی  ڈپٹی چیئرمین سکیورٹی کونسل 
 جنگ بندی معاہدہ کروانے پرپاکستان کے مشکور ہیں، جرمن چانسلر ‘ حالات کو حقیقی معنوں میں امن کی جانب جانا چاہیے: ترجمان جاپانی حکومت 
نیویارک، جدہ،لندن،برلن،سڈنی(آئی این پی )امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد  عالمی برادری نے  نے  اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطی میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے   اور پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔  اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اہم جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان کا خاموش، موثر سفارتکاری کا شکریہ۔جین میریٹ نے لکھا کہ پاکستان کا شکریہ کہ اس نے اس اہم جنگ بندی میں کردار ادا کیا۔ برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمر نے ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے،کیئر سٹارمر کا اپنے بیان میں کہناتھا کہ جنگ بندی سے خطے اور دنیا کو ریلیف ملے گا، شراکت داروں کے ساتھ ملکر مستقل جنگ بندی کی کوشش کریں گے،برطانوی وزیراعظم کاکہناتھا کہ جنگ بندی کو طویل المدتی معاہدے میں بدلنے کی پوری کوشش کریں گے،آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی حمایت کرتے ہیں۔روس کے ڈپٹی چیئرمین سیکیورٹی کونسل نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاہدہ دانشمندی کی جیت ہے۔ سابق اطالوی وزیراعظم پالوجی نتیلونی نے پاکستان کو اس پیش رفت پر نوبل انعام کا مستحق قرار دیا۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا، جبکہ یورپی یونین نے کہا کہ یہ معاہدہ نہایت اہم ہے اور تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کے دروازے کھلے رہنے چاہئیے۔جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ پاکستان اس معاہدے میں کردار ادا کرنے پر قابلِ تحسین ہے اور جرمنی امریکا و دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے، انہوں نے آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ مصر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ جنگ بندی مذاکرات اور سفارتکاری کیلئے ایک اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل امن کے لئے مزید کوششیں درکار ہیں۔ادھر انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے