ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے 315 دیہی مراکز صحت کو "مریم نواز ہسپتال" کے نام سے ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت دیہی مراکز صحت کی تزئین و آرائش کے لیے 15 ارب روپے کی لاگت آئی تھی اور اب اس تزئین و آرائش کے بعد ان مراکز کو ٹھیکے پر دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔اس اقدام کے تحت سرجن، گائناکالوجسٹ، اینستھیٹسٹ اور دیگر ماہرین دیہی مراکز صحت کو ٹھیکے پر لے سکتے ہیں۔ ان مراکز صحت کی دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مختلف ڈاکٹروں کو منتخب کرنے کے لیے 13 مئی تک درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔تاہم، اس فیصلے کے نتیجے میں 10 ہزار ملازمین کے فارغ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی سات ہزار سے زائد ملازمین فارغ ہو چکے ہیں کیونکہ بنیادی مراکز صحت کے انتظامات بھی ٹھیکے پر دیے جا چکے ہیں۔