شاہ محمود قریشی پولیس پر برہم، ملاقات کے معاملے پر افسران سے تکرار

شاہ محمود قریشی پولیس پر برہم، ملاقات کے معاملے پر افسران سے تکرار

شاہ محمود قریشی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کے ساتھ تکرار ہوئی، جب پی ٹی آئی رہنما نے لوگوں سے ملاقات کے لیے رکنے کی کوشش کی۔

 پولیس نے ان کو سماعت کے بعد لے جانے کی کوشش کی، جس پر شاہ محمود قریشی برہم ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق، شاہ محمود قریشی نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ "آپ مجھے جانے پر مجبور نہیں کر سکتے، اگر میں کچھ دیر رکتا ہوں تو کیا فرق پڑے گا؟ سندھ سے آج لوگ مجھے ملنے آئے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں ان سے ملاقات بھی نہ کرو!" انہوں نے پولیس افسران سے سوال کیا کہ "آپ کو کس نے مجھے میرے لوگوں سے ملنے سے روکا ہے؟ آپ اپنے بڑوں کو بلاؤ، ایس پی، ڈی آئی جی اور آئی جی کو بلاؤ، میں ان سے بات کرتا ہوں۔"شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ "آج جو ہمیں ہتھکڑیاں لگا رہے ہیں، کل یہی ہمیں سیلوٹ ماریں گے۔"قبل ازیں، لاہور انسداد دہشت گردی عدالت پیشی کے دوران میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے، شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی پر سندھ میں پانی کے مسئلے پر سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جب منصوبہ منظور کیا تھا تو چھ نہریں تھیں، اور انہیں اس بات کا علم تھا، لیکن انہوں نے اس وقت کیوں خاموشی اختیار کی اور اب شور کیوں مچایا؟

انہوں نے مزید کہا کہ "جب ارسا نے پانی کی دستیابی کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا، تو پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کہا، اور اب سندھ میں احتجاج شروع ہونے پر وہ آنسو بہانے لگے ہیں۔"شاہ محمود قریشی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کی باہر بیٹھی قیادت وہ کام نہیں کر سکی جو انہوں نے جیل میں بیٹھ کر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2013 اور 2018 میں پی ٹی آئی کو عمر کوٹ میں متعارف کرانے والے شخص ہیں اور پی ٹی آئی کا جھنڈا سندھ میں لے کر گئے۔سندھ میں پانی کے مسئلے پر اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بن چکا ہے، اور شاہ محمود قریشی نے سندھ کی عوام سے عمر کوٹ کے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔علاوہ ازیں، شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ شادمان نذرآتش اور پولیس کی گاڑیاں جلانے سمیت چھ مقدمات میں بعد از گرفتاری ضمانت پر سماعت کل ہو گی۔