پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس پر پابندی لگانا حماقت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹھنڈی ہوا آنے پر مذاکرات کا ماحول بنائے، تاکہ مسائل کو بہتر طور پر حل کیا جا سکے۔شاہ محمود قریشی نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جانا چاہیے تاکہ ملزمان کو سزا دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے بات کی جانی چاہیے تاکہ معاملات بہتر ہوں، اور اس سلسلے میں کامران مرتضیٰ نے کہا کہ انہیں دھوکا دیا گیا ہے، کیونکہ جنہوں نے معاملات حل کرنے کی بات کی تھی، وہ بھی اب نالاں ہیں۔قریشی نے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے نہیں کیے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے آزاد کشمیر میں احتجاج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اس حکومت سے متنفر ہو رہے ہیں۔انہوں نے اپنے اور دیگر رہنماؤں کی جیل میں رہنے کے بارے میں بھی بات کی، اور کہا کہ وہ اور دیگر رہنما ڈیڑھ سال سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ قصوروار ہیں تو سزا دی جائے، لیکن اگر بے قصور ہیں تو انہیں ریلیف ملنا چاہیے۔ انہوں نے یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، محمودالرشید اور عمر سرفراز چیمہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں کو بھی ریلیف ملنا چاہیے۔آخر میں، شاہ محمود قریشی نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی قوت ہے اور اس پر پابندی لگانا سیاسی حماقت ہوگی۔