یہ جذباتی ہونے کا نہیں ملکی سکیورٹی کا معاملہ ہے، ایک پولیس والے کی ڈیوٹی ہماری عدالت کے باہر ہو‘پانچ منٹ کیلئے ادھر ادھر ہو جائے تو اس نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی؟:ریمارکس
کیا عام قانون سازی کرکے شہریوں سے بنیادی حقوق لئے جا سکتے ہیں، کیا آئینی ترمیم کرکے سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے تھا:جسٹس مسرت ہلالی‘سماعت آج بھی ہوگی
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس کیس دلائل مکمل ہونے اور آئندہ دو سماعتوں پر مکمل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت آج بدھ تک کے لیے ملتوی کردی۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے یہ کوئی جذباتی ہونے کا نہیں ملکی سیکیورٹی کا معاملہ ہے، ایک پولیس والے کی ڈیوٹی ہماری عدالت کے دروازے کے باہر ہو، اس پولیس والے کی ڈیوٹی ہوگی کہ کوئی اسلحہ سے لیس شخص عدالت داخل نہ ہو، مگر وہ پولیس والا پانچ منٹ کے لیے ادھر ادھر ہو جائے تو اس نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی، کیا یہ سیکیورٹی آف اسٹیٹ نہیں ہے؟ ایک سازش جو ابھی ہوئی نہیں، اس پر قانون کا اطلاق کیسے ہوگا،جب آرٹیکل 8 کی شق تین اے کے تحت معاملہ عدالت آ ہی نہیں سکتا تو پھر بات ختم، پھر کیسی اپیل،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کیا عام قانون سازی کرکے شہریوں سے بنیادی حقوق لیے جا سکتے ہیں، کیا آئینی ترمیم کرکے سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے تھا، بھارت میں ملٹری ٹرائل کے خلاف آزادانہ فورم موجود ہے۔انھوں نے یہ ریمارکس مگل کے روزدیے ہیں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے کیس سماعت کی۔ دوران سماعت، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ایک سازش جو ابھی ہوئی نہیں، اس پر قانون کا اطلاق کیسے ہوگا۔ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سازش کرنے پر بھی نفاذ ہوتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ضابطہ فوجداری میں بھی قتل اور اقدام قتل کی الگ الگ شقیں ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ کرمنل جسٹس سسٹم کو آرٹیکل 175 کی شق تین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ایک کنفیوڑن ہے جس پر ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں، پریس والے بیٹھے ہیں ناں جانے میری آبزرویشن کو کیا سے کیا بنا دیں، اپیل کا حق بھی نہیں ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کہ کیا عام قانون سازی کرکے شہریوں سے بنیادی حقوق لیے جا سکتے ہیں، کیا آئینی ترمیم کرکے سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے تھا، بھارت میں ملٹری ٹرائل کے خلاف آزادانہ فورم موجود ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ویسے اپیل کی حد تک تو اٹارنی جنرل نے عدالت میں گزارشات پیش کی تھیں، اٹارنی جنرل کی گزارشات عدالتی کارروائی کے حکم ناموں میں موجود ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے وکیل کے دلائل مکمل کرنے کے بعد اٹارنی جنرل خود پیش ہوں۔