سویلین ٹرائل کیس سوال اتنا ہے فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

 فوجی عدالتیں قانون کے تحت وجود میں آئی ہیں‘ لیاقت حسین کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی  سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے:وکیل وزارت دفاع

 اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا ہے  سوال اتنا ہے  فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ ۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اپنایا  مجھ سے جو سوالات ہوئے میں نے تحریری معروضات کی شکل میں عدالت کے سامنے رکھے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں  فوجی عدالتوں میں منصفانہ ٹرائل ہوتا ہے، فوجی عدالتیں قانون کے تحت وجود میں آئی ہیں۔انہوں نے استدلال کیا کہ لیاقت حسین کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، فوجی عدالتوں کے ٹرائل میں مروجہ طریقہ کار اور فئیر ٹرائل دونوں میسر ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں مکمل انصاف کیلئے آفیسر باقاعدہ حلف لیتے ہیں۔آئینی بنچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو آج  جواب الجواب مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جمعہ کے روز  کے بعد کیس کی سماعت 28 تاریخ تک ملتوی کریں گے، 28 تاریخ تک بنچ دستیاب نہیں ہوگا،