امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایکٹ نافذ کرنے کی اجازت دے دی‘فلسطینیوں کی حمایت کے الزام پر ویزے منسوخ کئے گئے
واشنگٹن (آئی این پی ) امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایلین دشمن ایکٹ کو فی الحال نافذ کرنے کی اجازت دے دی، جس سے وائٹ ہائوس کو ایک اہم کامیابی مل گئی ہے، جس سے امیگریشن حکام کو ملک بدری کے لیے جنگی اختیارات پر انحصار کرنے کا موقع ملے گا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا ایمرجنسی اپیلوں میں سے ایک پر غیر دستخط شدہ فیصلے سے ٹرمپ کو 1798 کے قانون کو ہٹانے میں تیزی لانے کا موقع ملے گا، جب کہ نچلی عدالتوں میں اس قانون کے استعمال کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔سپریم کورٹ نے زور دیا جن لوگوں کو ملک بدر کیا جاتا ہے، انہیں نوٹس ملنا چاہیے کہ وہ اس قانون کے تابع ہیں اور انہیں وفاقی عدالت کی جانب سے ہٹانے کا جائزہ لیا جائے، جہاں انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔عدالت کے 3 لبرل ججوں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا،دوسری جانب میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطین کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، امریکی یونیورسٹیوں میں پاکستانیوں سمیت 400 سے زائد بین الاقوامی طلبہ کے ویزے منسوخ کردیے گئے۔جن یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے، ان میں ہارورڈ، اسٹینفورڈ، یو سی ایل اے، یونیورسٹی آف مشی گن سمیت دیگر شامل ہیں۔ بیشتر طلبہ ویزا منسوخ ہونے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔