پانی کاخطرناک بحران اور سبز آنقلاب

علیم اللہ چودھری 

 پانی بہت بڑی نعمت خداوندی ہے انسان حیوان چرند پرندپھل سبزیاں سمیت ہماری زندگیوں پر پانی کے بے شمار مثبت اثرات رونما ہوتے ہیں اور پانی کے بے شمار فوائد ہیں دوسری جانب ہماری زندگیوں پر پانی کی کمی کے بھیانک اثرات اور نتائج مرتب ہوتے ہیں ہمارے ملک پاکستان کی معیشت کازیادہ تردارومدار
زراعت پر منحصرہے پانی نہ ہوتوہماری زراعت نامکمل پانی اور نہری نظام پاکستان کی زراعت میں ریڈھ کی ھڈی کی حثیت رکھتاہے آج کل علاقائی نہروں میں پانی انتہائی کم مقدارمیں آرہاہے جو آنیوالے وقتوں میں خطرات کی نشاندہی کررہاہے پاکستان کو اللہ تعالی نے بے شمارخزانوں اور نعمتوں سے نوازاہواہے وہاں قدرتی طور پر پانی کی نعمت بھی وافر مقدار میں مہیاکی ہوئی ہے پہاڑی علاقوں میں آب شعاریں اور ان اب شعاروں سیگرتاہواپانی دریاؤں میں بہتاہے یہ پانی بے شمارفوائداور خزانوں سے مالامال ہے جسکا استعال کرکے ہم لوگ ملکی ترقی اوراپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں ہمارے ملک میں عطیہ خداوندی پانی کی مقدارکازیادہ ترحصہ ڈیمز کی کمی کے باعث ضائع ہوجاتاہے گذشتہ 78سالوں سے اقتدار پر براجمان رہنے والے حکمرانوں اور سیاسی قائدین نے پانی کیمسلے کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا ہرحکومت نے پانی کے مسلے پرعملی اقدامات اٹھانے کی بجائے سبز انقلاب برپا کرنے کی نعرے بازی کرکے ٹنگ ٹپاوپالیسی کے تحت اپنے اقتدارکودوام بخشاہے ہماریملک کیپہاڑوں اوربارشوں سے آنیوالا پانی ذخیرہ کیے جانے کی بجائے سمندر میں گرکرضائع ہوجاتاہے ہمارے ملک کیحکمرانوں نے پانی کومحفوظ اور ذخیرہ کرنے کیلیے ڈیمزکی تعمیر پرکبھی بھی سنجیدگی کا اظہار اور عملی طور پرکچھ بھی نہیں کیاہے سوائے 1960کی دہائی کی حکومت کے جس نے چند ایک جنمیں منگلا تربیلااور دیگر ڈیمز شامل ہیں بنائے تھے یہی وجہ ہیکہ آج دنیاکے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ڈیمز کی کمی کے باعث پانی کی کمی کا اڑدھامنہ کھولے بھیانک نتائج لیے دستک دے رہاہے گذشتہ چند سالوں سے آبی ماہرین کے تجزیوں سے بھی پانی کی کمی کے خطرناک نتائج سننے کومل رہیتھے چند سالوں سے دریاؤں میں پانی کی کمی کو عملی طور پردیکھا ہے اور آج بھی یہی صورت حال ہے دریائے راوی ستلج سمیت دیگر دریاؤں میں پانی کابہاونہ ہونے کے برابرہے اور جوپانی خصوصی طور پر دریائے راوی یادیگر دریاؤں میں بہہ رہاہے وہ بارش یا پہاڑوں سے بہہ کر آنیوالا نہیں ہے بلکہ دریاوں کے قریب قائم فیکڑیوں کاآلودہ اورکیمکل زدہ زہریلاپانی ہے جو ہماری زراعت اور زندگیوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کررہاہے 1990 کی دہائی کے دورآن دریائے راوی اور اس سے نکلنے والی نہر لوئر باری دوآب میں فیکڑیوں کا زہریلا پانی آنے سے لاکھوں کی تعداد میں مچھلیاں اور دیگر آبی جانورلقمہ اجل بننے کے ساتھ ساتھ فصلوں کوبھی نقصان پہنچا تھا راقم کی شائع ہونیوالی نیوز پر اس وقت کے معززجسٹس 
لاہور ہائی کورٹ نے ایکشن لیتے ہوئے 14کے قریب فیکڑیوں کو سیل کردیاتھا جنکاکیمیکل ملا زہریلا پانی دریائے راوی میں گرتاتھاگذشتہ چند سالوں سے ہماریاعمالوں کے باعث مالک کائنات بھی ہم سیناراض ہیاور بارشیں کم ہورہی ہیں جس سے ہمارا ملک پانی کی کمی کا شکارہوچکاہے اس لیے ہمیں  بطور ایک مسلمان قوم اور حکمرانوں کواپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا ہوگی اوررب کائنات نیجو عمل کرنے سے منع کیاہے ان سے توبہ کرنا ہوگی تاکہ ہمارارب ہم سے راضی ہو دیگر رحمتوں کے ساتھ ساتھ اپنی رحمت کی بارشیں برسائے پانی وافر مقدار میں ہمارے پاس موجود ہوموجودہ حکمران اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو ملک کے دیگر مسائل اور خصوصی طور پرمستقبل قریب میں پانی کے پیش آنیوالے بھیانک مسلے کی جانب فوری توجہ دیتے ہوئے عملی اقدامات کرنا ہونگے اوربلاتفریق نامکمل ڈیمز کی تعمیر کو مکمل اور وقت ضائع کیے بغیر نئیڈیمزکی تعمیر کے لیے ہنگامی بنیادوں پرکام شروع کرنا ہونگے#