وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب خود پیکیج کے تمام خدوخال تشکیل دے رہی ہیں اور عوام انہیں اپنے لیے ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، ڈینگی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اس کے سدباب کے لیے سرویلنس ٹیمیں متحرک ہیں۔ ایسے علاقوں میں جہاں ڈینگی مچھر کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، فوری طور پر اسپرے کروایا جا رہا ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عوام انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور پانی اترنے سے پہلے گھروں کو واپس نہ جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بار بار اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر اصلاحات لانا ضروری ہیں۔ گجرات کے سیوریج سسٹم کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وہاں اربوں روپے کے فنڈز مختص ہوئے لیکن نظام موجود نہیں، جس کے لیے اب 16 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے سیلاب متاثرین کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صاف پانی اتھارٹی نے اب تک 2 لاکھ 48 ہزار لیٹر صاف پانی فراہم کیا ہے، صرف چار روز میں 5 لاکھ لیٹر پانی مہیا کیا گیا جبکہ 1 لاکھ 60 ہزار بوتلیں بھی تقسیم کی گئی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 10 ہزار سرکاری ملازمین سروے کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔