نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے انضمام کی کارروائی روک دی

اماراتی حکام امریکی عہدیداروں، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک  سے بھی ناراض ہو گئے 
 تل ابیب+واشنگٹن (آئی این پی) متحدہ عرب امارات کی وارننگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی کارروائی روک دی، نیتن یاہو کی کابینہ کا اجلاس مغربی کنارے کے بڑے حصے پر اسرائیلی خودمختاری کے نفاذ پر بات کرنے کے لیے طے تھا، تاہم ایجنڈا بدل کر فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر مرکوز کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت متحدہ عرب امارات کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام پر دی گئی عوامی تنبیہ پر حیران رہ گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ سرخ لکیر ہے جو علاقائی انضمام کے خاتمے کا باعث بنے گی۔امریکی اخبار نے یہ بات ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتائی، نامعلوم اہلکار کو یہ کہتے ہوئے نقل کیا گیا کہ امارات نے اس سے پہلے بھی دیگر ذرائع سے انضمام کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا، لیکن یہ بیان حیران کن تھا، یہ بہت غیر معمولی ہے۔یہ انتباہ امارات کی خصوصی ایلچی لانا نسیبہ نے ٹائمز آف اسرائیل کو دیے گئے ایک انٹرویو اور بعد کے بیان میں جاری کیا تھا، مزید انتباہات خفیہ ذرائع سے بھیجے گئے، واشنگٹن پوسٹ نے 3 باخبر افراد کے حوالے سے کہا کہ یہاں تک کہ نیتن یاہو کے کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے سے انضمام کو ہٹا دیا۔یو اے ای کا یہ عوامی انتباہ خاص طور پر نمایاں تھا