دکی؛ گھر سے ناراض ہوکر جانے والے دو بھائی کوئلہ کان میں جاں بحق

دکی؛ گھر سے ناراض ہوکر جانے والے دو بھائی کوئلہ کان میں جاں بحق

کوئٹہ کے علاقے دکی میں کوئلے کی بند کان سے دو بھائیوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جبکہ درہ آدم خیل کے علاقے اخوروال میں بھی کوئلے کی کان میں پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے دو محنت کش جاں بحق ہوگئے۔

دکی میں جاں بحق ہونے والے دونوں بھائیوں کی شناخت محمد حسن اور محمد ہاشم کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں بھائی گھر سے ناراض ہوکر نکلے تھے اور بعد ازاں ان کی لاشیں کوئلے کی ایک بند کان سے برآمد ہوئیں۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ دونوں کی موت کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث ہوئی۔پولیس کے مطابق لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب درہ آدم خیل کے علاقے اخوروال میں کوئلے کی کان میں دورانِ کان کنی حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے دو مزدور جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں زرین تاج ولد فضل کریم، سکنہ بانڈہ دولت الپوری، اور محمد قیوم ولد محمد زمان، سکنہ چچلو، یونین کونسل رانیال، الپوری شامل ہیں۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی امدادی ٹیموں اور متعلقہ اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں مزدوروں کی لاشیں کان سے نکالیں۔ ضروری کارروائی کے بعد لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔

واقعے کے بعد دونوں مزدوروں کے آبائی علاقوں میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔مقامی حلقوں کے مطابق شانگلہ میں روزگار کے محدود مواقع اور صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کی کمی کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کے لیے اپنے گھروں سے دور مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ کان کنی کا شعبہ علاقے کے کئی خاندانوں کے لیے آمدن کا اہم ذریعہ ہے، تاہم کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو اکثر مشکل اور خطرناک حالات کا سامنا رہتا ہے۔مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئلے کی کانوں میں مزدوروں کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات کو مؤثر بنایا جائے تاکہ ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔