سمندری دنیا میں ایک ایسی مخلوق بھی موجود ہے جس کے ایک نہیں بلکہ تین دل ہوتے ہیں، جبکہ اس کا خون انسانوں کی طرح سرخ نہیں بلکہ نیلا دکھائی دیتا ہے۔
یہ حیرت انگیز مخلوق آکٹوپس ہے۔آکٹوپس کے جسم میں موجود تین دلوں میں سے دو دل خون کو گلپھڑوں تک پہنچاتے ہیں، جہاں خون آکسیجن حاصل کرتا ہے، جبکہ تیسرا دل آکسیجن سے بھرپور خون کو جسم کے دیگر حصوں تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔آکٹوپس کے خون کے نیلے رنگ کی وجہ اس میں موجود ہیماسیانن (Hemocyanin) نامی پروٹین ہے۔ یہ پروٹین آکسیجن کی ترسیل کیلئے تانبے پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے برعکس انسانوں کے خون میں آکسیجن پہنچانے کا کام آئرن پر مشتمل ہیموگلوبن کرتا ہے، جس کی وجہ سے انسانی خون سرخ نظر آتا ہے۔آکٹوپس کی ایک اور حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ اس کے جسم میں ہڈیاں موجود نہیں ہوتیں۔ یہی لچکدار جسم اسے انتہائی تنگ اور چھوٹی جگہوں سے گزرنے میں مدد دیتا ہے۔آکٹوپس کو سمندری دنیا کی ذہین ترین مخلوقات میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ یہ پیچیدہ مسائل حل کرنے، چیزوں کو بطور اوزار استعمال کرنے اور اپنے ماحول کے مطابق مختلف حکمتِ عملیاں اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔قدرت کی یہ مخلوق اپنے تین دل، نیلے خون، لچکدار جسم اور غیر معمولی ذہانت کے باعث سائنس اور سمندری حیات میں خاص دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔