طویل اقتصادی اصلاحات کے نتیجے میں حقیقی گھریلو آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے نہ صرف ملک میں غربت بڑھی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہوئے ہیں
پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.8 فیصد متوقع‘کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی بڑی وجوہات ہیں:ورلڈ بینک کی رپورٹ
واشنگٹن(آئی این پی ) عالمی بینک نے کہا ہے مشرقِ وسطی، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (مناپ) میں بسنے والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد صرف پاکستان میں رہتے ہیں۔ عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی جاری رپورٹ، تقسیم سے مواقع تک،اے آئی، جابز اور گروتھ، کے مطابق روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کرنے والے انتہائی غریب افراد میں سے تقریبا 48 فیصد صرف پاکستان میں ہیں۔ افغانستان، شام اور یمن ملا کر مزید 47 فیصد ہیں، یعنی ان 4 ممالک پر خطے کے انتہائی غریبوں کا تقریبا 95 فیصد بوجھ ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت مزید بڑھ گئی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی اقتصادی شرح نمو 3.8 فیصد رہنیاور مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کے طویل دور نے افراد کی حقیقی آمدنی اور روزگار کے مواقع کو مزید کم کیا ہے۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں 2018 سے 2025 کے دوران روزانہ 3 ڈالر کمانے والے غریب افراد کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا جبکہ روزانہ 4.20 ڈالر آمدنی والے افراد میں یہ اضافہ 3.2 فیصد پوائنٹس رہا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔عالمی بینک کے مطابق روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والے غریب افراد کی شرح جبوتی، پاکستان، شام اور یمن میں 20 فیصد یا اس سے زیادہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مناپ خطہ دنیا کے انتہائی غریب افراد میں سے 14 فیصد کا حامل ہے جو سب صحارا افریقا کے بعد دوسری بڑی شرح ہے۔رپورٹ کے مطابق 2000 اور 2010 کی دہائیوں میں غربت میں نمایاں کمی کے بعد 2019 کے قریب یہ پیشرفت رک گئی اور کورونا وبا کے بعد غربت کی صورتحال دوبارہ خراب ہوئی۔عالمی بینک نے رواں مالی سال 2027-2026 کے دوران پاکستان کی مجموعی اقتصادی شرح نمو 3.8 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہیجبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔آبادی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی فی کس مجموعی قومی پیداوار میں شرح نمو رواں مالی سال 2.2 فیصد رہنے کی توقع ہیجو گزشتہ مالی سال کی 2.1 فیصد شرح کے قریب ہے۔رپورٹ میں رواں مالی سال پاکستان کے کرنٹ اکانٹ خسارے کا تخمینہ مجموعی قومی پیداوار کے 0.8 فیصد جبکہ بجٹ خسارے کا تخمینہ 3.5 فیصد لگایا گیا ہیعالمی بینک نے پاکستان کے نجی شعبے میں جدت کے حوالے سے بھی کمزور کارکردگی کی نشاندہی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برس میں نئی مصنوعات یا خدمات متعارف کرانے والی پاکستانی کمپنیوں کا تناسب صرف 3 فیصد رہا جبکہ نئی پیداواری عمل کی جدت متعارف کرانے والی کمپنیوں کا تناسب صرف ایک فیصد تھا اس کے مقابلے میں کم آمدنی والے ممالک کے ہم پلہ گروپ میں نئی مصنوعات متعارف کرانے والی کمپنیوں کی شرح 23 فیصد اور پیداواری عمل میں جدت کی شرح 14 فیصد رہی۔