اسرائیلی محاصرے سے غزہ میں 20 لاکھ شہر ی قحط اور فاقہ کشی کا شکار ، فلسطینی جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے
خاندان کے خاندان صیہونی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ڈاکٹرعلا النجارنصرکا بدقسمت خاندان بھی ان میں سے ایک ہیں
غزہ(آئی این پی )اسرائیلی دہشت گردی کے دو سال مکمل ہوگئے جبکہ اسرائیل کے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے دعوئوں کے باوجود غزہ پر حملے جاری رہے جس سے مزید 67فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے، خوراک کے حصول میں متعدد فلسطینی اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے، اسرائیل نے غزہ سٹی کا مرکزی راستہ بھی بند کر دیا، فلسطینی جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔خاندان کے خاندان صیہونی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ڈاکٹرعلا النجارنصرکا بدقسمت خاندان بھی ان میں سے ایک ہیں،خاتون ڈاکٹر کے نوبچے اور شوہر حملوں میں شہید ہوگیا۔یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس کی قیادت میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے "طوفان الاقصی" کے نام سے اسرائیلی سرحدوں پر بڑا حملہ کیا۔فلسطینی مجاہدین نے رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے سرحدی بستیوں میں داخل ہو کر 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا جس کے بعد اسرائیل نے بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں شروع کر دیں۔صیہونی حکومت نے نہ صرف 3 لاکھ 60 ہزار ریزرو فوجی غزہ میں تعینات کیے بلکہ پوری غزہ پٹی کو ایک تباہ کن محاصرے کا شکار بنا دیا۔ان دو برسوں میں ہونے والی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں