دونوں ممالک کی غزہ میں اسرائیلی بربریت ‘فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید مذمت، آزاد فلسطینی ریاست کی مکمل حمایت ، افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا:21نکاتی مشترکہ اعلامیہ

 پاکستان ‘ ملائیشیا میں اقتصادی  تجارتی تعاون  کی بے پناہ گنجائش   شہبازشریف
دونوں ممالک نے وزرائے خارجہ کی سطح پر مشترکہ کمیشن کے اجلاس بلانے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئی راہیں کھولنے پر اتفاق کیا‘ ملائشیا کی جانب سے پاکستان کے لئے پام آئل کی برآمدات بڑھانے کی خواہش ظاہر کی گئی
 پام آئل سپلائی چین کو پائیدار بنانے، حلال مصنوعات و خدمات کے فروغ، دفاعی اشتراک، تعلیم، فنی تربیت، صحت، سیاحت اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا:اعلامیہ کے نکات
اسلام آباد  (آئی این پی ) وزیراعظم شہباز شریف کے 5 سے 7 اکتوبر تک دورہ ملائشیا کے اختتام پر پاکستان اور ملائشیا کے درمیان 21 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا  ۔اعلامیہ  کے مطابق دونوں ممالک نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے   وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملائشین ہم منصب انور ابراہیم کی دعوت پر ملائشیا کا دورہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے 6 اکتوبر کو اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور اعلی سطح پر روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں ممالک نے وزرائے خارجہ کی سطح پر مشترکہ کمیشن کے اجلاس بلانے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئی راہیں کھولنے پر اتفاق کیا۔اعلامیے میں ملائشیا کی جانب سے پاکستان کے لیے پام آئل کی برآمدات بڑھانے کی خواہش ظاہر کی گئی، جبکہ دونوں ممالک نے پام آئل سپلائی چین کو پائیدار بنانے، حلال مصنوعات و خدمات کے فروغ، اور حلال سرٹیفیکیشن کے عمل کو آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا۔اسی طرح دفاعی اشتراک، تعلیم، فنی تربیت، صحت، سیاحت اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔دونوں رہنمائوں نے مصنوعی ذہانت  (اے  آئی )، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، سائنس و ٹیکنالوجی میں اشتراک کے عزم کا اظہار کیا اور انسدادِ دہشت گردی، ٹیرر فائنانسنگ، سائبر کرائمز اور منظم جرائم کے خاتمے  کیلئے  مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔اعلا میہ کے مطابق پاکستان اور ملائشیا نے غزہ میں اسرائیلی بربریت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔دونوں ممالک نے افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔دریں اثناء  زیراعظم شہباز شریف نے کہا  ہے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان اقتصادی و تجارتی شعبوں میں تعاون کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، جس کے فروغ کیلئے دونوں ممالک بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، ایک پائیدار سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کے قیام کیلئے بین الاقوامی اور ملکی سرمایہ کو متحرک کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے ملائیشین بزنس گروپ گوبی پارٹنرز کے وفد نے ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے کو فانڈر اور چیئر تھامس سا نے کی، ملاقات میں دوطرفہ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے  پاکستان ملائیشیا بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بزنس ٹو بزنس روابط کے نئے راستے کھلے ہیں، حکومت کاروبار کیلئے دوستانہ ماحول پیدا کرنے اور کاروبار میں آسانی  کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے۔شہباز شریف نے بتایا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(ایس آئی ایف سی )بیرونی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے متحرک ہے۔