24ارب روپے میں آدھے سندھ ‘جی بی اور کشمیر کا علاج مفت کر سکتا ہوں: قائمہ کمیٹی اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(آن لائن )سینیٹ کی وفاقی تعلیم کمیٹی نے وفاقی دارلحکومت کے ہسپتالوں پر مریضوں کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی سفارش کی ہے ۔منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ وفاقی وزیر قومی صحت سمیت سیکرٹری صحت اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ سندھ میں صحت سہولت کارڈ نہیں ہے اورکراچی میں 16ہسپتال سندھ کے علاوہ تمام صوبوں کے شہریوں کا علاج کرر ہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہسپتال چلانا سرکار کا کام نہیں ہے ہم سرکاری ہسپتال نہیں چلا سکتے‘24ارب روپے میں آدھے سندھ جی بی اور کشمیر کا علاج مفت کر سکتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ دو سال کا ہم نے ہیلتھ کارڈ کا بل دینا ہے پہلے وہ دیں گے۔ رکن کمیٹی سینیٹر انوشے رحمن نے کہاکہ ہسپتالوں کے اندر صرف ایڈمنسٹریشن کی سیٹ لینے کیلئے لڑائی ہوتی ہے‘ہسپتالوں کے اندر آپ کو دیکھنا ہو گا کہ ایڈمنسٹریشن میں ڈاکٹر کیوں بیٹھے ہیں ‘جو ڈاکٹر ہے اسے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیئے رکھیں‘ ڈاکٹر کو ایڈمنسٹریشن میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سینٹ کے بجٹ سے ہیلتھ کارڈ شروع کریں