دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کارروائی کا حکم

 کل سے دھواں چھوڑنے والی گاڑی نظر نہ آئے، جو نظر آئے اسے بند کر دیا جائے :جسٹس شاہد کریم 
لاہور(کرائم رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا جبکہ جسٹس (ر)علی اکبر قریشی کو دوبارہ چیئرمین جوڈیشل واٹر کمیشن مقررکرتے ہوئے تمام محکموں کو ان کی معاونت کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کی اورریمارکس دئیے کہ شہر میں کل سے دھواں چھوڑنے والی گاڑی نظر نہ آئے، جو گاڑی بھی دھواں چھوڑے اسے بند کر دیا جائے گا اور سڑکوں پر بینرز بھی آویزاں کئے جائیں،یہ مہم دو سے تین ہفتے کیلئے ہے مگر سختی سے عمل کریں ،لاری اڈوں پر افسر کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات کریں ،پورے پنجاب میں آلودگی کا پھیلائو روکنے کیلئے سخت انتظامات کریں ،اگر عدالتی احکامات پر عمل کیا جاتا تو لاہور کی صورتحال مختلف ہوتی،جی ٹی روڈ کو کسی صورت نظر انداز نہ کیا جائے۔عدالت نے حکم دیا کہ محکمہ ماحولیات کا فوکس صرف لاہور پر نہیں ہونا چاہئے، شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر تعینات اہلکاروں کا ڈیوٹی روسٹر عدالت کے ساتھ شیئر کیا جائے۔دوران سماعت واسا نے رپورٹ جمع کرائی کہ ان کے ترقیاتی کاموں کا فیز ون مکمل ہوگیا ہے، سڑکوں کی بحالی کیلئے ایل ڈی اے کو فنڈز ٹرانسفر کئے جا چکے ہیں،وکیل التمش سعید نے نشاندہی کی کہ اس وقت عدالت میں بھی اے کیو آئی 190 سے زائد ہے، عدالت میں بھی ایئر پیوریفائر لگائے جائیں۔عدالت نے ڈائریکٹر کے پیش نہ ہونے پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہامحکمہ ماحولیات کے افسروں کو آج کل سڑکوں پر نظر آنا چاہئے ،جو بھی آلودگی پھیلائے اس کیخلاف کارروائی کریں،کیا موٹر ویز ٹول پلازوں پر چیکنگ کی جارہی ہے ؟،لاہور ملتان روڈ پر چیکنگ سخت کرنی چاہئے ، پرانے ٹائر پراسس کرنیوالیپلانٹس کیخلاف بھی کارروائی کرنا ہوگی۔ افسر محکمہ ماحولیات نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے بعد 60 ٹن پرانے ٹائرز پکڑے گئے، جنوبی پنجاب اور دیگر شہروں میں پرانے ٹائروں کو پراسس کرنیوالے پلانٹس ہیں۔کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔