ویب ڈیسک:پاکستانی شوبز کی معروف اداکارہ زویا ناصر نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے نوجوانوں کی زندگیوں میں آتی مشکلات کی وجہ ان انفلوئنسرز کو قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر کچھ انفلوئنسرز اپنی زندگی کی جھوٹی تصویریں اور کہانیاں فالوورز کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، جو کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں احساس کمتری اور مایوسی پیدا کر رہا ہے۔زویا ناصر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انفلوئنسرز کی جانب سے دکھائی جانے والی عیش و عشرت کی جھوٹی زندگی نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان میں ڈپریشن اور مایوسی کے بڑھتے ہوئے رجحانات دیکھے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور غیر حقیقت پسندانہ چیزوں کی تشہیر کے بجائے مشہور شخصیات اور انفلوئنسرز کو اپنی زندگی کے سچے پہلوؤں کو شیئر کرنا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو حقیقت پسندانہ توقعات ملیں اور وہ خود کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔زویا ناصر کی یہ باتیں اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا کی حقیقت سے جڑی تصویر کے اثرات اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اس کے اثرات کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔