آئی جی اسلام آباد سمیت 500 اہلکاروں کیخلاف مقدمے درج کرنیکا فیصلہ

خیبرپختونخوا کابینہ نے کے پی ہائوس اسلام آباد پر حملہ آور ہونے، غیر قانونی طور پر چھاپہ مارنے پر مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کر دی‘مقدمہ خیبرپختونخوامیں درج کیا جائے گا
ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کرنے کا فیصلہ‘اجلاس میں  یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار وزیراعلیٰ کو دینے کی ترمیم منظور کر لی گئی

 اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )خیبر پختونخوا کابینہ نے آئی جی اسلام آباد سمیت 500 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔صوبائی کابینہ نے کے پی ہائوس اسلام آباد پر حملہ آور ہونے، غیر قانونی طور پر چھاپہ مارنے اور احاطے میں گھسنے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کر دی۔صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق کے پی ہائوس سے چوری و دیگر جرائم کے مرتکب ہونے اور رہائشیوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنے پر ایف آئی آر درج کی جائے، ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی حکومت نے اسلام آباد کی متعلقہ عدالتوں میں ایسی شکایات درج کروائی تھیں لیکن اس بار مقدمہ خیبر پختونخوا میں درج کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 میں ترامیم کی بھی منظوری دی جبکہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کا اختیار وزیراعلیٰ کو دینے کی ترامیم منظور کی گئی۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ترامیم کے بعد وزیراعلیٰ تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے چانسلر ہوں گے۔ ترامیم میں وائس چانسلرز کی مدت ملازمت کو بھی چار سال مقرر کیا گیا ہے۔ ویمن یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کے عہدوں پر خواتین ہی تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔کابینہ نے ایگریکلچر انکم ٹیکس ایکٹ 2024 مسودے کی بھی منظوری دے دی جبکہ کے پی ہاؤسنگ اتھارٹی اور پی ایچ اے فاؤنڈیشن کے درمیان فریم ورک معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔ رورل ایکسیسیبلٹی پروجیکٹ کے تحت قرض کی رقم بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے۔ قرض کی رقم 30 کروڑ سے بڑھا کر 37 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کرنے کی منظوری  دی گئی۔