میری رہائی کا معاملہ امریکہ سے نہیں بلکہ پاکستان میں ہی مکمل ہوگا، میرا نام مستقل طور پر ای سی ایل پر ڈال دیں ‘ احتجاج میں شرکت نہ کرنے والوں کو الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیں گے
اپنی دو غلطیاں تسلیم کرتا ہوں جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع دینا سب سے بڑی غلطی تھی‘ کمزور اتحادی حکومت لینے کے بجائے مجھے دوبارہ انتخابات کرانے چاہیے تھے:صحافیوں سے گفتگو
راولپنڈی (ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے ملک سے کسی صورت نہیں بھاگوں گا، میری رہائی کا معاملہ امریکہ نہیں بلکہ پاکستان میں ہی مکمل ہوگا۔ اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 47واں امریکی صدارتی انتخاب جیتنے پر مبارکباد دیتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، مجھے امید ہے صدر ٹرمپ کم از کم نیوٹرل ہوں گے اور جو بائیڈن کی طرح نہیں ہوں گے جنہوں نے باجوہ کی طرف حسین حقانی کو استعمال کر کے جو میرے خلاف لابی کی گئی اس پر یقین کیا، اپنی دو غلطیاں تسلیم کرتا ہوں کہ جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع دینا میری سب سے بڑی غلطی تھی اور کمزور اتحادی حکومت لینے کی بجائے مجھے دوبارہ انتخابات کروانے چاہیئے تھے۔عمران خان کہتے ہیں کہ میری رہائی کا معاملہ امریکہ سے نہیں بلکہ پاکستان میں ہی مکمل ہوگا، میں ملک سے کسی صورت نہیں بھاگوں گا، میرا نام مستقل طور پر ای سی ایل پر ڈال دیں میں نے باہر نہیں جانا، پہلے نواز شریف باہر گیا اب اس کی بیٹی بھی باہر چلی گئی بیرون ملک علاج انتہائی مہنگا ہے اور ان کا سارا ٹبر باہر بیٹھا ہوا ہے، ان کی جائیدادیں اور ان کے پیسے ملک سے باہر ہیں، اگر میں نے نواز شریف اور زرداری کی طرح چوری کی ہوتی تو ڈیل کر کے ملک سے بھاگ گیا ہوتا- اپنی ساری پارٹی بالخصوص قیادت کو یہ پیغام دیتا ہوں احتجاجی تحریک کی تیاری کریں، احتجاج کی قیادت تحریک انصاف کی جوائنٹ لیڈرشپ کرے گی، جو ٹکٹ ہولڈر یا عہدیدار احتجاج میں شرکت نہیں کرے گا اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہم اس کو اگلے الیکشن میں ٹکٹ دیں گے، میرا اپنی قوم کو یہ پیغام ہے کہ اپنے حقوق اور آزادی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، آپ سب کو حقیقی آزادی اور آزاد عدلیہ کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا، ڈنڈے کے زور پر یہ حکومت نہیں چلائی جا سکتی۔عمران خان نے کہا کہ میں پچھلے سولہ ماہ سے جیل میں ناحق قید ہوں، اگر ہم آج ان کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے تو پاکستان میں جمہوریت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا، میں سمجھتا ہوں کہ غلامی سے موت بہتر ہے، یہ مجھے ملٹری کورٹس میں لے جانا چاہتے ہیں تو لے جائیں میں اس کے لیے بھی تیار ہوں لیکن ان کی غلامی قبول نہیں کروں گا