بھارتی جارحیت افسوسناک، دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں: عالمی برادری

 ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے:چینی وزارت خارجہ 
 بھارت اور پاکستان کی موجودہ صورتحال تشویش ناک، تحمل کا مظاہرہ کریں:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ 
 دونوں ممالک کو بات چیت اور رابطے کے ذریعے امن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے:امریکی وزیر خارجہ 
 ایسے اقدامات سے گریز کریں جو علاقائی یا عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں:وزیر خارجہ یوا ے ای
  بیجنگ،واشنگٹن،ابوظہبی ،ٹوکیو (آئی این پی )عالمی برادری نے بھارتی جارحیت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں۔چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دونوں ملک پر سکون رہیں، تحمل کا مظاہرہ کریں، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت افسوسناک ہے، ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں‘اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے پاک بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے   پاک بھارت جنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ صورتحال تشویش ناک ہے، تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو علاقائی یا عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس موقف سے متفق ہیں کہ دونوں ممالک کو بات چیت اور رابطے کے ذریعے امن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان پر بھارتی جارحیت پر جاپان نے بھی  بیان جاری کردیا ۔ امریکی میڈیا کے مطابق جاپان نے پاکستان بھارت پر تحمل کامظاہرہ کرنے پر زوردیا ہے،جاپانی چیف کیبنٹ سیکرٹری  نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت بات چیت سے صورتحال کو مستحکم کریں ۔  ادھر یو اے ای کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال حساس نوعیت کی ہے اور اس کا واحد پائیدار حل سفارتکاری اور بات چیت سے ہی ممکن ہے،