سینیٹر حامد خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران 26ویں آئینی ترمیم کو آئین اور عدلیہ کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا فل بینچ کرے۔
ان کے ساتھ صدر لاہور ہائیکورٹس بار ایسوسی ایشن، اسد منظور بٹ بھی موجود تھے۔
فل کورٹ سماعت کی مثال
حامد خان نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ کیس سن چکا ہے، اس لیے 26ویں ترمیم جیسے اہم آئینی معاملے پر بھی فل بینچ کی سماعت ضروری ہے۔
26ویں ترمیم پر تحفظات
انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم عدلیہ کے آزادی کے اصولوں کے منافی ہے اور اسے "آئین اور عدلیہ کا قتل" قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم ختم کرنے کے لیے بارز کی جدوجہد واضح ہے۔مزید کہا کہ ترمیم کے بعد مقرر ہونے والے ججز کے سامنے یہ کیس پیش نہیں ہونا چاہیے۔
ہائی کورٹس میں سیاسی مداخلت کی مخالفت
حامد خان نے ہائی کورٹس میں سیاسی تعیناتیوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بار ایسوسی ایشنز کو قومی سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش ہے، جو مناسب نہیں۔
بارز کا کردار
انہوں نے وکلاء برادری کو متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔