پیٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں دائر آئینی درخواست کی سماعت رواں ہفتے ہوگی

اسلام آباد (آن لائن) امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالتیں دائر آئینی درخواست کی سماعت رواں ہفتے کیے جانے کا امکان ہے۔درخواست میں ملک بھر میں نافذ پیٹرولیم لیوی نظام کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیاگیاہے۔درخواست میں نئی متعارف کردہ‘‘کلائمیٹ سپورٹ لیوی’’کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں آئینی درخواست دائر کی گئیں ہے حافظ نعیم الرحمان نے ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے درخواست دائر کی پیٹرولیم لیوی آئینِ پاکستان، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے،پیٹرولیم لیوی اب ایک محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی، پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے لیے سب سے بڑے ریونیو ذرائع میں تبدیل ہو چکی، پیٹرولیم لیوی کو پارلیمنٹ کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، اس وقت پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی تقریباً 117.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی، پیٹرولیم لیوی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے، صرف پیٹرولیم لیوی ہی پیٹرول کی بنیادی ایکس ریفائنری قیمت کا تقریباً 42 سے 43 فیصد بنتی ہے،لیوی کے علاوہ بھی مختلف ٹیکسز عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کے اعداد و شمار بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں مالی سال 2025-26 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.47 ٹریلین روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے جو پورے وفاقی بجٹ کا تقریباً 8.3 فی صد بنتا ہے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی وصولیاں اب تک تقریباً 6.3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکیں، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار، خوراک، اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، درخواست میں خاص طور پر فنانس ایکٹ 2025 کو چیلنج کیا گیا ہیفنانس ایکٹ 2025 میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی پر پہلے سے موجود قانونی حد ختم کر دی، ماضی میں پیٹرولیم لیوی کی حتمی مقدار ہر سال پارلیمان خود طے کرتی تھی، پارلیمنٹ نے ففتھ شیڈول ختم کر کے عملی طور پر حکومت کو کھلی اور غیر محدود مالیاتی طاقت دی، حکومت اس وصولی کو‘‘لیوی’’کا نام دیتی ہے، حقیقت میں پیٹرولیم لیوی، درخواست ٹیکس کی شکل اختیار کرچکی،یہ عوام سے جبری طور پر وصول کی جانے والی ایک عمومی ریونیو وصولی ہے،لیوی کے بدلے میں عوام کو کوئی مخصوص خدمت یا فائدہ فراہم نہیں کیا جاتا، ایک‘‘ٹیکس'' کو‘‘پیٹرولیم لیوی’’کا عنوان دے کر آئینی تقاضوں اور پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی گئی، اس طریقہ کار کے نتیجے میں عوام پر بڑے پیمانے پر مالی بوجھ تو عائد کیا جا رہا ہے، یہ طرزِ عمل آئین کی روح، پارلیمانی مالیاتی خودمختاری اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہے، پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا طریقہ کار بنیادی حقوق، وفاقی توازن اور آئینی مالیاتی نظم کیلئے بھی سنگین نتائج کا حامل ہے، درخواست میں نئی لگائی گئی ''کلائمیٹ سپورٹ لیوی'' بھی چیلنج کی گئی ہے حکومت نے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے نام پر نئی لیوی تو نافذ کی، قانون میں نہ کوئی کلائمیٹ فنڈ بنایا گیا، نہ کوئی جوابدہی کا نظام رکھا گیا، نہ پارلیمانی نگرانی کا بندوبست کیا گیا، اور نہ ہی یہ ضمانت دی گئی کہ یہ رقم واقعی ماحولیاتی مقاصد پر خرچ ہو گی، ماضی میں‘‘پیٹرولیم ڈویلپمنٹ’’اور دیگر متعلقہ مدات کے نام پر عوام سے کھربوں روپے وصول کیے گئے، ان رقوم کے استعمال، ترقیاتی مقاصد یا عوامی فائدے کے حوالے سے کوئی شفاف اور قابلِ احتساب نظام موجود نہیں، درخواست میں حکومت کی پالیسیوں کو متضاد بھی قرار دیا گیا ہیوفاقی آئینی عدالت عوام کو معاشی استحصال کے اس مسلسل نظام سے نجات دلانے کے لیے اپنا آئینی اختیار استعمال کرے، پیٹرولیم لیوی پر پارلیمانی نگرانی اور قانونی حدیں بحال ک جائیں،فنانس ایکٹ 2025 کی دفعہ 3 اور اس کے تحت غیر محدود ایگزیکٹو اختیارات کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے، پیٹرولیم لیوی کو‘‘ ٹیکس’’قرار دیتے ہوئے آئین سے متصادم ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دیا جائے،حکومت کو وصول شدہ لیوی کے استعمال اور مصرف کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے، ایگزیکٹو کو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے عوام پر غیر محدود مالیاتی بوجھ عائد کرنے سے روکا جائے، وفاقی آئینی عدالت بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنے عدالتی نظرِ ثانی کے اختیار کو بروئے کار لائے۔