اسلام آباد ہائی کورٹ کا قابلِ ستائش فیصلہ

سید ہ سونیا منور
اسلام آباد ہائی کورٹ  کی جانب سے آوارہ کتوں کو زہر دینے یا گولی مارنے پر پابندی ایک نہایت مثبت، انسانی اور مہذب اقدام ہے یہ فیصلہ نہ صرف جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ ایک ذمہ دار اور ہمدرد معاشرے کی عکاسی بھی کرتا ہے کسی بھی مہذب قوم کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ کمزور اور بے زبان مخلوق کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتی ہے ماضی میں مختلف شہروں میں آوارہ کتوں کی تعداد کم کرنے کے لیے زہر دینے یا انہیں گولی مارنے جیسے اقدامات اختیار کیے جاتے رہے ہیں یہ طریقے نہ صرف بے رحمانہ ہیں بلکہ اکثر غیر مؤثر بھی ثابت ہوتے ہیں اس عمل سے جانور شدید اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ مسئلے کا مستقل حل بھی سامنے نہیں آتاعدالت کا یہ فیصلہ اس سوچ کو فروغ دیتا ہے کہ جانوروں کے مسائل کا حل تشدد یا ہلاکت نہیں بلکہ سائنسی اور انسانی بنیادوں پر تلاش کیا جانا چاہیے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں آوارہ جانوروں کے انتظام کے لیے ویکسینیشن، رجسٹریشن اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے جدید طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیںآوارہ کتوں کو زہر دینے کے بجائے ان کی ویکسینیشن ایک زیادہ محفوظ اور مؤثر حکمتِ عملی ہے خصوصاً ریبیز جیسی بیماریوں کی روک تھام کے لیے وسیع پیمانے پر ویکسینیشن پروگرام نہایت ضروری ہیں اس سے نہ صرف جانور محفوظ رہتے ہیں بلکہ انسانی جانوں کو بھی تحفظ حاصل ہوتا ہے حکومتوں، بلدیاتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ مشترکہ طور پر ویکسینیشن مہمات چلائیں اس کے ساتھ ساتھ آوارہ کتوں کی نس بندی (Sterilization) کے پروگرام بھی شروع کیے جائیں تاکہ ان کی آبادی کو قدرتی اور انسانی طریقے سے قابو میں رکھا جا سکے یہ طریقہ دنیا بھر میں کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے عوامی شعور بیدار کرنا بھی اس مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جانوروں کے ساتھ رحم و کرم کا رویہ اختیار کرنا ہماری اخلاقی، مذہبی اور سماجی ذمہ داری ہے معاشرے میں ہمدردی اور برداشت کے فروغ سے ہی ایسے مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے یہ اقدام صرف اسلام آباد یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پورے ملک میں اس طرزِ فکر کو اپنایا جانا چاہیے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی اداروں کو عدالت کے اس فیصلے سے رہنمائی لیتے ہوئے آوارہ جانوروں کے انتظام کے لیے جدید اور انسانی پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیںآخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ قابلِ ستائش ہے اور ایک مہذب معاشرے کی جانب اہم قدم ہے آوارہ کتوں کو زہر دینے یا مارنے کے بجائے ان کی ویکسینیشن، نس بندی اور مناسب دیکھ بھال کو فروغ دینا ہی درست راستہ ہے اگر اس پالیسی کو ملک بھر میں نافذ کیا جائے تو نہ صرف جانوروں کی فلاح ممکن ہوگی بلکہ عوامی صحت اور سماجی ہم آہنگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی