افغانیوں کی اسلام آباد سے انخلا کے پیش نظر دیگر اضلاع نقل مکانی

 شہزاد حسین بھٹی

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کی واپسی کے لیے حکومت نے 31 مارچ کی حتمی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔ جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آ رہی ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد میں مقیم افغانی شہری ممکنہ پولیس آپریشن اور کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، بڑی تعداد میں افغانی باشندے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مرکزی علاقوں کو چھوڑ کر ٹیکسلا، ہری پور، واہ کینٹ، اٹک، نوشہرہ اور دیگر قریبی شہروں کے مضافات میں منتقل ہو رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ گرفتاری اور جبری بے دخلی سے بچ سکیں۔

اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اٹک اور دیگر قریبی علاقوں میں پراپرٹی ڈیلرز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے اور بھاری ایڈوانس وصول کر کے افغانی خاندانوں کو دھڑا دھڑ مکانات کرایے پر دے رہے ہیں۔ نہ صرف مکانات بلکہ بعض جگہوں پر گودام، فیکٹریوں کے کمرے اور دیگر خالی جگہیں بھی ان افراد کو عارضی رہائش کے طور پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ پراپرٹی ڈیلر نہ صرف ان سے زیادہ رقم بٹور رہے ہیں بلکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو پناہ دے کر ریاستی پالیسیوں کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں متوقع کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے یہ افراد قریبی شہروں میں چھپ رہے ہیں، جس سے ان کے خلاف کارروائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ حکومت کو نہ صرف راولپنڈی اور اسلام آباد میں کارروائی کرنی چاہیے بلکہ ان علاقوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جہاں یہ افراد منتقل ہو رہے ہیں۔

افغانیوں کی واپسی سے پاکستان میں مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع بڑھیں گے، کیونکہ مختلف شعبوں میں غیر قانونی طور پر قابض افراد کی جگہ پاکستانی شہری کام کریں گے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی معیشت بھی بہتری کی جانب گامزن ہو گی کیونکہ غیر قانونی کاروبار اور معیشت پر بوجھ بننے والے عناصر کا خاتمہ ہو گا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانی نہ صرف امن عامہ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ انہی کے بھیس میں دہشت گرد بھی پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ ماضی میں کئی دہشت گردانہ واقعات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ افغانستان سے آنے والے عناصر نے پاکستان میں قیام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تخریب کاری کی۔ یہ لوگ آئے روز پاکستانی شہریوں سے سرعام جھگڑے کرتے ہیں اور معاشرتی بدامنی کو ہوا دیتے ہیں۔

بڑے شہروں میں کئی اہم کاروبار اور پراپرٹیز بھی انہی کے پاس ہیں، جس کی وجہ سے مقامی افراد کے لیے کاروباری مواقع محدود ہو چکے ہیں۔ اٹک میں بھی بااثر افغانی نوٹوں کی چمک سے سرکاری اہلکاروں کو خرید لیتے ہیں اور مقامی بااثر افراد انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی علاقوں میں یہ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں اور کارروائیوں سے بچنے کے لیے راستے نکالتے ہیں۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہ صرف بڑے شہروں بلکہ ان علاقوں میں بھی نظر رکھنی چاہیے جہاں افغانی باشندے منتقل ہو رہے ہیں۔ پراپرٹی ڈیلرز کے خلاف کارروائی کی جائے جو غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو رہائش فراہم کر رہے ہیں۔ غیر قانونی مقیم افغانیوں کے لیے خصوصی کیمپ قائم کیے جائیں تاکہ ان کی رجسٹریشن اور واپسی کا عمل شفاف بنایا جا سکے۔ حکومتی سطح پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو پناہ دینے سے گریز کریں۔

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔ اگر اس معاملے پر بروقت اور موثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے بلکہ مختلف شہروں میں امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔