سربیا کے لیجنڈری ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ نے ومبلڈن کی تاریخ کے طویل ترین کوارٹر فائنل میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
آل انگلینڈ کلب میں کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں 39 سالہ جوکووچ نے کینیڈا کے تھرڈ سیڈ فیلکس اوجر-الیاسیم کو پانچ گھنٹے 15 منٹ تک جاری رہنے والی سخت جنگ کے بعد شکست دی۔دونوں کھلاڑیوں کے درمیان میچ میں اعلیٰ معیار کا ٹینس دیکھنے کو ملا، جہاں ہر سیٹ میں زبردست مقابلہ ہوا۔ جوکووچ نے حریف کو 6-7، 6-3، 3-6، 7-6 اور 7-6 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ (اگر آخری سیٹ ٹائی بریک پر ختم ہوا تو نتیجہ 7-6 ہونا چاہیے۔)اس کامیابی کے ساتھ جوکووچ ومبلڈن میں اپنے ریکارڈ کے برابر آٹھویں ٹائٹل اور مجموعی طور پر 25ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل کی دوڑ میں بدستور شامل ہیں۔ اگر وہ یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو گرینڈ سلیم تاریخ کے سب سے کامیاب کھلاڑی بن جائیں گے۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نوواک جوکووچ نے کہا کہ پانچ گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے اس یادگار مقابلے کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ان کے مطابق یہ ومبلڈن میں ان کے کیریئر کے بہترین میچوں میں سے ایک تھا، جہاں دونوں کھلاڑیوں نے غیرمعمولی کھیل پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ کن لمحات میں مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا ان کی کامیابی کی بنیاد بنا، جبکہ تماشائیوں کی زبردست حوصلہ افزائی نے بھی انہیں بھرپور اعتماد فراہم کیا۔اب سیمی فائنل میں نوواک جوکووچ کا مقابلہ دفاعی چیمپئن جینک سنر سے ہوگا، جہاں دونوں عالمی معیار کے کھلاڑی فائنل میں رسائی کے لیے آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے اہم اور دلچسپ میچوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔