سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تہران میں سابق ایرانی رہبراعلی کی آخری رسومات میں انڈیاکی جانب سے نچلی سطح کاوفدبھیجنے کے کیامعنی ہیں؟تہران کی فضاان دنوں ایک عجب کیفیت سے دوچارہے گویاوقت اپنی رفتارسست کرکے ایک عہدکے اختتام پرماتم کناں ہو۔تہران کی سرزمین اس وقت ایک ایسے لمح تاریخ سے گزررہی ہے جس میں آنسوبھی خاموش ہیں اورصدائیں بھی بوجھل۔ تہران کی فضامیں بچھاہواسوگ محض ایک رہنماکی رحلت کانہیں،بلکہ عالمی ضمیرکی آزمائش کامنظرنامہ ہے۔ ایران کے سابق رہبرِاعلی آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کی آخری رسومات نہ صرف ایک قومی سانحہ ہیں بلکہ ایک تہذیبی اورسیاسی عہد کی علامتی تدفین بھی۔ایسے میں ہندوستان کی جانب سے نچلی سطح کے وفد کی روانگی محض ایک سفارتی اقدام نہیں بلکہ ایک معنی خیزاشارہ ہیایسااشارہ جس کی بازگشت بین الاقوامی ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔
اے اہلِ نظر!ذراٹھہرواورتہران کی اس فضا کومحسوس کروجہاں تاریخ آنسوؤں میں بھیگ رہی ہے اورامت کی نبض ایک عظیم رہبر کے فراق میں دھڑک رہی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں کرداروں کی پہچان ہوتی ہے،جہاں دوستی اورمنافقت کے پردے چاک ہوتے ہیں!اور ایسے میں ہندوستان کانچلی سطح کاوفد؟یہ تعزیت نہیں،یہ سردمہری کااعلان ہے!یہ وہ لمحہ ہے جہاں خاموشی بھی بولتی ہیاورآج یہ خاموشی چیخ چیخ کرکہہ رہی ہے کہ وفاداریاں بدل چکی ہیں۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی رحلت محض ایک شخصیت کارخصت ہونانہیں بلکہ ایک فکری عہد،ایک نظریاتی قلعہ اورایک روحانی مرکزکاڈھل جاناہے۔ایسے موقع پرکسی بھی ریاست کاردعمل محض رسمی نہیں ہوتابلکہ اس کے باطن میں اس کی سفارتی ترجیحات، اخلاقی قدریں اورنظریاتی وابستگیاں عیاں ہوتی ہیں۔ایسے موقع پرہندوستان کانچلی سطح کاوفدبھیجناکسی سفارتی نزاکت کانہیں بلکہ ایک شعوری سردمہری کااظہارہے۔گویاایک خاموش جملہ ہے ،ایساجملہ جس میں لفظ کم اورمعنی زیادہ ہیں۔یہ اقدام بظاہرتعزیت ہے مگر درحقیقت فاصلے کااظہار بھی-یہ اقدام تعزیت کے پردے میں چھپی ہوئی سیاسی بے حسی ہے گویاایک عظیم سانحے کومحض ایک رسمی فائل نوٹ میں سمیٹ دیاگیا ہو۔سوال یہ نہیں کہ وفدآیا،بلکہ سوال یہ ہے کہ کون نہیں آیااورکیوں نہیں آیا۔
یہ سات دن،اے سامعین!صرف سوگ کے نہیں بلکہ عالمی ضمیرکے امتحان کے دن ہیں یہ امت کے شعورکی کسوٹی ہیں!دنیاکے حکمران سرجھکائے کھڑے ہیں۔دنیابھرسے سربراہان کااجتماع ایک طرح سے اس حقیقت کااعتراف ہے کہ رہبرِاعلی ایک عالمی روحانی وسیاسی علامت تھے مگرکچھ ایسے بھی ہیں جواپنی نگاہیں چرارہے ہیں۔ایران میں سات روزہ سوگ کی یہ تقریبات جہاں عالمی قیادت کے اجتماع کامنظرپیش کریں گی،وہیں ہندوستانی وزارتِ خارجہ کایہ اعلان کہ بہارکے گورنرسیدعطاحسنین اوروزیر مملکت برائے امور خارجہ پبِترامارگریٹاشرکت کریں گے،ایک جانبدارسفارتی توازن کی عکاسی کرتاہے۔
بظاہریہ اقدام تہذیبی روابط کی پاسداری ہے،مگراس کے پسِ پردہ سیاسی مصلحتوں کاایک پیچیدہ جال بھی محسوس ہوتاہے۔ہندوستان کا وفد آیاضرورہے،مگراس کی قامت چھوٹی ہے ، اس کاپیغام مدھم ہے!کیایہ وہی ملک ہے جوتہذیبوں کاامین کہلاتاتھا؟یااب یہ مفادات کااسیر ہوچکاہے؟دنیابھرکے رہنماجب تہران کارخ کررہے ہیں،تومودی کامحدود نمائندہ وفدایک کھلاتضادبن کرابھرتاہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے’’تہذیبی روابط‘‘کی دہائی دینادراصل ایک سفارتی پردہ داری ہے،جس کے پیچھے مفادات ومنافقت کی بے نقاب سیاست کھڑی ہے۔
ہندوستانی وفدکی شرکت کواگر تہذیبی روابط کاتسلسل کہاجائے توبھی اس میں ایک احتیاط کاپہلونمایاں ہے گویاتعلق باقی بھی رکھا جائے اورفاصلے بھی برقراررہیں۔اسلامی تناظرمیں تعزیت محض رسم نہیں بلکہ اخوتِ ایمانی کاتقاضاہے،اوریہی وہ میزان ہے جس پر ایسے اقدامات تولے جاتے ہیں۔اسلامی دنیااس رویے کومحض رسمی شرکت نہیں بلکہ تعلقات کی درجہ بندی کے طورپردیکھ رہی ہے اوریہ درجہ بندی ہندوستان کیلئے کوئی اعزازنہیں بلکہ باعثِ ندامت تصورکی جارہی ہے جس کی مکمل ذمہ دارمودی کی پالیسیاں ہیں۔
اگردعوت تھی اورتم نہ آئے تویہ انکارہے!اوراگر دعوت نہ تھی تویہ تمہاری تنہائی کااعلان ہے!اے اہلِ اقتدار!تاریخ تم سے سوال کرے گی کہ تم کہاں تھے جب ایک عظیم روح کو سپردِ خاک کیاجارہاتھا؟تمہاری کرسی نے تمہیں روک لیایاتمہاری ترجیحات نے تمہیں بے حس بنادیا؟دونوں صورتوں میں نتیجہ ہندوستان کے حق میں نہیں جاتا۔دعوت کاہونایانہ ہونااپنی جگہ،مگرعدم شرکت خودایک سیاسی بیان ہے۔مودی کانہ جانااورنمائندہ وفدکابھیجنااس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ نئی دہلی نیاپنے سفارتی وزن کواس موقع پرمکمل طورپراستعمال نہیں کیا
تاہم مودی کی عدم شرکت اوراس کے بجائے ایک نمائندہ وفدکی روانگی،سفارتی لغت میں ایک نرم انکارکے مترادف سمجھی جارہی ہے۔وزیراعظم کانہ جانادراصل ایک سیاسی فیصلہ ہے ،ایسافیصلہ جوعالمی منظرنامے پریہ پیغام دیتاہے کہ نئی دہلی نے تہران سے فاصلہ اختیارکرلیاہے۔اپوزیشن کی شرکت اس خلاکوپرنہیں کرتی،بلکہ اسے مزیدنمایاں کرتی ہے۔ کانگریس قیادت،بشمول ملکارجن کھرگے اورسلمان خورشید،کی ممکنہ شرکت اس موقع کومزیدسیاسی رنگ دے رہی ہے گویاداخلی سیاست اورخارجی سفارت ایک ہی صفحے پررقم ہو رہے ہوں۔کانگریسی قیادت کی ممکنہ شرکت داخلی سیاست کے اس پہلوکواجاگرکرتی ہے،جہاں قومی بیانیہ ایک نہیں رہتابلکہ کئی آوازوں میں بٹ جاتاہے۔
یہاں تصویرمکمل طورپرواضح ہوجاتی ہے۔ہندوستان نے عملًااپنے آپ کواس محورمیں کھڑاکرلیاہے جہاں طاقت،اصولوں پرغالب آجاتی ہے۔ایران پرحملوں کے وقت خاموشی اختیارکرنامحض سفارتی احتیاط نہیں بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔جب ظلم کے مقابل خاموشی اختیارکی جائے تووہ خاموشی خودظلم کاحصہ بن جاتی ہے۔حالیہ عالمی تناظرمیں، خصوصا ًایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستان کاجھکامغربی بلاک کی جانب واضح دکھائی دیتاہے اوراس کے ایران سے تعلقات کوکمزور کرتا دکھائی دیتاہے۔اسلامی دنیامیں یہ تاثرگہراہورہاہے کہ طاقت کے سامنے اصول پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
قرآن کی تعلیمات ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کادرس دیتی ہیں،مگریہاں خاموشی اختیارکی گئیاوریہی خاموشی سب سے بلند صدابن گئی۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستان - ایران تعلقات کی وہ قدیم ریشمی ڈور،جوصدیوں سے قائم تھی،اب تناؤکاشکارنظرآتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں نقاب گرتے ہیں،جہاں اصول اورمفادکی کشمکش نمایاں ہوجاتی ہے !جب ایران پرآگ برس رہی تھی،تم کہاں کھڑے تھے؟ تمہاری خاموشی نے تمہیں بے نقاب کردیا!یادرکھوظلم کے سامنے خاموش رہنے والاخودظالم کے صف میں کھڑاہوتاہے ! اورآج تمہاری خاموشی ایک گواہی ، ایسی گواہی جوتاریخ کے سینے پر ثبت ہوچکی ہے!
کانگریس کی جانب سے حکومت پر نقید،خصوصا پون کھیڑاکابیان،اس خاموشی کو’’مجرمانہ‘‘قراردیتاہے ایک ایسالفظ جوسیاسی لغت میں شدیدترین اخلاقی الزام کی حیثیت رکھتاہے۔ سیاسی اختلاف جب اخلاقی سوال میں ڈھل جائے تواس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔یہ بیان صرف تنقیدنہیں بلکہ ایک اخلاقی مقدمہ ہے جس میں خاموشی کوجرم کے درجے میں رکھا گیا ہے ۔یہ تنقیدمحض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔اپوزیشن کی تنقیدمحض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال ہے: کیاہندوستان نے اپنی اخلاقی سمت کھودی ہے؟’’مجرمانہ خاموشی‘‘کالفظ محض الزام نہیں بلکہ ایک فیصلہ ہے اوریہ فیصلہ عوامی ضمیرکی عدالت میں سنایاجارہاہے۔یہ آوازیں،یہ تنقیدیںیہ محض سیاست نہیں،یہ ضمیرکی پکارہے!جب کوئی’’’مجرمانہ خاموشی‘‘کہتاہے تووہ دراصل تمہاری روح کوجھنجھوڑرہاہوتاہے!کیاتم سن رہے ہو؟یااقتدارکے ایوانوں نے تمہارے کان بندکردیے ہیں؟
سلمان خورشید کی شرکت،اگرچہ ذاتی وجماعتی نمائندگی کااظہارہے،مگراس میں ایک ادبی وقاربھی جھلکتاہے۔خورشیدکی شرکت ایک کمزورسی کوشش اورایک نرم سفارتی اشارہ ہے۔ اس تاثرکو زائل کرنے کی،جو حکومتی رویے نے پیداکیاہے۔گویاایک ٹوٹی ہوئی ڈورکو مکمل طورپرٹوٹنے سے بچانے کی کوشش۔ان کااندازِبیان اورذمہ داری کااحساس اس بات کا مظہرہے کہ سیاست میں بھی وقاراورتہذیب کی گنجائش باقی ہے۔گویاوہ تاریخ کے اس نازک موڑپرہندوستانی ضمیرکی ایک نرم مگربامعنی آوازبن کرابھررہے ہوں مگرحقیقت یہ ہے کہ نمائندہ وفودکبھی بھی قیادت کے فقدان کونہیں چھپاسکتے۔یہ ایساہی ہے جیسے کسی بڑے زخم پرمعمولی مرہم رکھ کراسے چھپانے کی کوشش کی جائے۔ایک فرداٹھتاہے،نمائندگی کرتا ہے،مگر اے صاحبانِ اقتدار!کیاقومیں نمائندوں سے چلتی ہیں یاقیادت سے؟یہ شرکت نہیں،یہ ایک کمزورساتاثرہے،ایک ایسی کوشش جوحقیقت کوچھپا نہیں سکتی۔
(جاری ہے)