سردار حیدر احمد علی
پاکستان میں سیاست کبھی صرف سیاست نہیں رہی۔ یہاں اقتدار محض حکومت کرنے کا نام نہیں بلکہ امید، خوف، مفاد، بیانیے اور طاقت کے پیچیدہ امتزاج کا دوسرا نام ہے۔ ہر چند ماہ بعد ایک ہی سوال نئے انداز میں زندہ ہو جاتا ہے: ‘‘کیا یہ حکومت جائے گی؟’’ گویا قوم کی قسمت کا انحصار صرف اس بات پر ہو کہ وزیرِاعظم کون ہے، نہ کہ اس بات پر کہ ریاست کس سمت جا رہی ہے۔
اصل مسئلہ شاید حکومتوں کا آنا جانا نہیں، بلکہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔ ہم ہر نئے حکمران سے معجزے کی توقع کرتے ہیں، اور چند مہینے بعد اسی شدت سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ پھر اگلی امید، اگلا نعرہ اور اگلا چہرہ۔ یوں چہرے بدلتے رہتے ہیں، مگر سوال وہی رہتے ہیں۔آج مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم حکومت کے بارے میں بھی یہی بحث جاری ہے۔ کچھ لوگ یقین سے کہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی، جبکہ کچھ اسے آئینی مدت مکمل کرنے والی حکومت قرار دیتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔جمہوریت میں حکومتوں کا مستقبل جلسوں کے نعروں سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اعداد و شمار سے طے ہوتا ہے۔ جب تک کسی حکومت کے پاس اکثریت موجود ہو اور اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہوں، صرف سیاسی خواہش اسے اقتدار سے نہیں ہٹا سکتی۔ آئین جذبات سے نہیں، نمبروں سے چلتا ہے۔لیکن سیاست صرف اسمبلی کے ووٹوں کا نام بھی نہیں۔ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ اگر معیشت کمزور ہو جائے، عوام کا اعتماد متزلزل ہو، مہنگائی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دے اور سیاسی درجہ? حرارت مسلسل بلند رہے، تو مضبوط دکھائی دینے والی حکومتیں بھی کمزور محسوس ہونے لگتی ہیں۔حکومت کی کارکردگی کا سب سے بڑا امتحان معاشی میدان ہے۔ معاشی اشاریے اگر بہتری کی طرف جائیں تو سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوتا ہے، عالمی مالیاتی ادارے نسبتاً مثبت اشارے دیتے ہیں اور ریاست کو سانس لینے کا موقع ملتا ہے۔ حالیہ عرصے میں بھی کچھ معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ لیکن عام آدمی اپنی رائے کسی بین الاقوامی رپورٹ کی بنیاد پر نہیں بناتا۔ اس کے لیے اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ آٹے، بجلی، گیس، دواؤں، تعلیم اور روزگار کی صورتحال کیا ہے۔جب تک اعداد و شمار دسترخوان تک نہ پہنچیں، عوام معاشی کامیابی کو اپنی کامیابی نہیں سمجھتے۔پاکستان کی سیاست کا ایک اور مستقل کردار اتحادی سیاست ہے۔ مخلوط حکومتیں ہمیشہ توازن کا کھیل کھیلتی ہیں۔ ہر اتحادی اپنی سیاسی قیمت جانتا ہے اور مناسب وقت پر اس کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ حکومت کی اصل آزمائش اپوزیشن سے زیادہ اپنے اتحادیوں کو مطمئن رکھنے میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر چھوٹے اختلافات بھی بعض اوقات بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اپوزیشن کا کردار بھی کسی جمہوری نظام میں غیر اہم نہیں۔ ایک مؤثر اپوزیشن حکومت کو جوابدہ بناتی ہے، غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور متبادل بیانیہ پیش کرتی ہے۔ لیکن صرف احتجاج، جلسے اور پریس کانفرنسیں حکومت تبدیل نہیں کرتیں۔ حکومتیں تب تبدیل ہوتی ہیں جب پارلیمانی اکثریت بدل جائے یا عوام انتخابات میں نیا فیصلہ دے دیں۔یہاں ایک اور سوال بھی ضروری ہے۔ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ اگر آج حکومت تبدیل ہو بھی جائے تو کل مختلف کیا ہوگا؟ کیا صرف نئے چہرے پرانے مسائل حل کر دیتے ہیں؟ اگر ادارے، پالیسیاں، نظمِ حکومت، تعلیم، انصاف اور معیشت کے بنیادی ڈھانچے کمزور رہیں تو اقتدار کی تبدیلی محض کرسیوں کا تبادلہ بن کر رہ جاتی ہے۔قوموں کی ترقی نعروں سے نہیں، اداروں سے ہوتی ہے۔ہم اکثر حکمرانوں کو اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، لیکن معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری پر کم بات کرتے ہیں۔ قانون شکنی صرف ایوانوں میں نہیں ہوتی، بازاروں میں بھی ہوتی ہے۔ بدعنوانی صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں، روزمرہ زندگی کے چھوٹے فیصلوں میں بھی نظر آتی ہے۔ اگر قوم اپنے حصے کی اصلاح سے گریز کرے تو صرف حکومت کی تبدیلی دیرپا نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی جمہوریت نے گزشتہ ایک دہائی میں کچھ ارتقا ضرور کیا ہے۔ منتخب حکومتوں کے اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کا رجحان پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ یہ تبدیلی معمولی نہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر آئینی تسلسل کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ موجودہ حکومت تنقید سے بالاتر ہے۔ حکومت سے سوال پوچھنا جمہوری حق ہے۔ معیشت، مہنگائی، روزگار، ٹیکس، توانائی، امن و امان اور گورننس پر سخت سوال ہونے چاہئیں۔ لیکن سوال اور فیصلہ دو الگ چیزیں ہیں۔ تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، انتشار نہیں۔سیاست میں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ نہ اقتدار دائمی ہے، نہ مخالفت۔ جو آج حکومت میں ہے، کل اپوزیشن میں بھی ہو سکتا ہے، اور جو آج اپوزیشن میں ہے، کل اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ہو سکتا ہے۔ اس لیے دانشمند سیاست دان وہ ہوتا ہے جو وقتی کامیابی سے زیادہ مستقل اداروں کی تعمیر پر توجہ دے۔آخر میں اصل سوال وہی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ حکومت کب جائے گی؟
اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جب یہ حکومت جائے گی تو اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جائے گی؟ کیا مضبوط معیشت؟ کیا بہتر ادارے؟ کیا عوام کا بڑھا ہوا اعتماد؟ یا صرف ایک اور سیاسی کشمکش؟تاریخ حکومتوں کی مدت نہیں گنتی، ان کے فیصلے یاد رکھتی ہے۔ کچھ حکومتیں پانچ سال اقتدار میں رہ کر بھی فراموش ہو جاتی ہیں، جبکہ کچھ مختصر مدت میں ایسے فیصلے کر جاتی ہیں جو نسلوں تک اثر انداز ہوتے ہیں۔اقتدار ایک امانت ہے، ملکیت نہیں۔ کرسی ہمیشہ عارضی ہوتی ہے، لیکن اس پر کیے گئے فیصلے مستقل اثرات چھوڑتے ہیں۔ اسی لیے ہر حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عوام وقتی نعروں سے متاثر ہو سکتے ہیں، مگر تاریخ صرف نتائج کا حساب رکھتی ہے۔شاید پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر قومیں اپنے فیصلوں، اپنی ترجیحات اور اپنی اجتماعی بصیرت کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔ اگر ہم ہر بحران کا حل صرف حکومت کی تبدیلی میں تلاش کرتے رہے تو ممکن ہے حکومتیں بدلتی رہیں، مگر
حالات نہیں۔اور اگر کبھی ہم نے اداروں، قانون، تعلیم، معیشت اور قومی کردار کو سیاست سے زیادہ اہمیت دینا سیکھ لیا، تو پھر شاید پہلی بار سوال یہ نہیں ہوگا کہ ‘‘کون حکومت کرے گا؟’’بلکہ یہ ہوگا کہ ‘‘ملک کتنی تیزی سے آگے بڑھے گا؟’’وہ دن پاکستان کی حقیقی سیاسی بلوغت کا دن ہوگا۔