وفاقی بجٹ میں ماحولیاتی فنڈز نصف سے بھی کم کر دیے گئے، شیری رحمان

وفاقی بجٹ میں ماحولیاتی فنڈز نصف سے بھی کم کر دیے گئے، شیری رحمان

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ماحولیاتی ایمرجنسی کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کا بجٹ 3.5 ارب سے کم کر کے 2.7 ارب روپے کر دیا گیا، جب کہ ماحولیاتی تحفظ کے فنڈز بھی 7.2 ارب سے گھٹا کر صرف 3.1 ارب روپے کر دیے گئے۔

  سیمینار میں خطاب — “پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز”
شیری رحمان نے کہا کہ:“بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی، جو ماحولیاتی تباہی کی طرف کھلی بے حسی ہے۔”ان کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے اکیلے موسمیاتی بحران سے نہیں نمٹ سکتے۔ایک نیشنل کلائمیٹ ایکو سسٹم کے قیام پر زور دیا۔نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو شامل کرنے کی تجویز دی۔
  پاکستان موسمیاتی خطرات کی زد میں
جرمن واچ کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
پاکستان میں:

درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا رہا ہے
ژالہ باری اور اچانک سیلاب معمول بن چکے ہیں
پچھلے 5 سال میں 16 فیصد گلیشیئر ماس ختم ہو چکا ہے
  ماحولیاتی بحران کے عوامل:
دریاؤں میں غیرقانونی مائننگ
جنگلات کی کٹائی
فضائی آلودگی

ہر سال 1.28 لاکھ اموات
معیشت کو 7 فیصد سالانہ نقصان
شیری رحمان نے کہا کہ:

"ان ماحولیاتی تباہ کاریوں کو اب قدرتی آفات نہیں، بلکہ انسان ساختہ جرائم تصور کیا جانا چاہیے۔"
  زراعت اور غربت کا چیلنج:
90 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے، جو اب موسمیاتی جھٹکوں کی زد میں ہے۔
پاکستان کی 37 فیصد ورک فورس زراعت پر انحصار کرتی ہے۔
ملک میں:

45 فیصد لوگ غربت کا شکار
21 فیصد کو غذائی قلت کا سامنا
  نتیجہ:
شیری رحمان نے ماحولیاتی تحفظ کو قومی بقا کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان کرے اور وسائل میں مناسب اضافہ کرے۔