دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے افسوسناک واقعے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا اور ڈی جی اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
کارروائی کی تفصیل:
ذرائع کے مطابق صوبائی انسپکشن ٹیم نے سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی نااہلی اور سست روی پر سخت رپورٹ صوبائی حکومت کو جمع کرائی۔رپورٹ میں ڈی جی ریسکیو کے بارے میں بھی نشاندہی کی گئی کہ ان کے پاس ریسکیو سے متعلق تکنیکی تجربہ نہیں تھا۔
عہدوں سے ہٹائے گئے افسران:
ڈی جی ریسکیو خیبرپختونخوا:ان کی خدمات پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ڈی جی اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی:انہیں او ایس ڈی (آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی) بنا دیا گیا ہے۔
پہلے ہی 6 افسران معطل:
اس واقعے پر پہلے ہی 6 سرکاری افسران کو معطل کیا جا چکا ہے۔سیاحوں کو بروقت نہ بچانے پر محکمہ انتظامیہ، ریسکیو، اور سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھے تھے۔
تحقیقات اور رپورٹ:
گزشتہ روز کمشنر ملاکنڈ نے واقعے سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ انکوائری کمیٹی کو پیش کی تھی۔رپورٹ میں ذمہ دار اداروں کی غفلت اور تیاری کی کمی کو حادثے کا بنیادی سبب قرار دیا گیا۔
واقعہ پس منظر:
یاد رہے کہ چند روز قبل دریائے سوات میں چند سیاح پانی کے بہاؤ میں پھنس گئے تھے۔بروقت ریسکیو آپریشن نہ ہونے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
???? نتیجہ:
صوبائی حکومت کی جانب سے افسران کے خلاف ایکشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غفلت اور نااہلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مزید انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اضافی اقدامات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔