سوات: عدالت کے اندر بیٹے نے غیرت کے نام پر ماں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

سوات: عدالت کے اندر بیٹے نے غیرت کے نام پر ماں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بیٹے نے غیرت کے نام پر عدالت کے اندر اپنی ماں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ تحصیل کبل کی عدالت میں اس وقت پیش آیا جب خاتون دارالامان سے عدالت میں پیشی کے لیے لائی گئی تھیں۔ ملزم بیٹا رومل خان پہلے سے عدالت کے احاطے میں موجود تھا، جس نے ماں پر اچانک فائرنگ کر دی۔فائرنگ سے خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ واقعے کے فوری بعد پولیس نے ملزم کو موقع سے گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا۔

پولیس کا مؤقف:
سوات پولیس کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

ملزم رومل خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مقتولہ عدالت میں پیشی کے لیے دارالامان سے لائی گئی تھیں۔
قتل کی ابتدائی وجہ غیرت کا معاملہ بتایا جا رہا ہے، تاہم مزید تفتیش جاری ہے۔
پس منظر:
غیرت کے نام پر قتل کے اس واقعے نے علاقہ مکینوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو شدید جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک ماں کو اس کے ہی بیٹے نے عدالت جیسے محفوظ مقام پر قتل کر دیا۔ سیکیورٹی اقدامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ عدالت کے اندر اسلحہ لے جانے کی اجازت کیسے ملی؟

سوشل اور قانونی ردعمل:
واقعے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ اور ان پر مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔