شکارپور: سندھ کے ضلع شکارپور کے گاؤں محمود باغ میں غیرت کے نام پر مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ایک لڑکی اور نوجوان کو قتل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں مقتولہ کے والد نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی اور ایک نوجوان کو فائرنگ کرکے نشانہ بنایا۔پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی لڑکی کی شناخت 18 سالہ بشیرا کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ مقتول نوجوان کی عمر تقریباً 23 سے 24 سال بتائی گئی ہے اور اس کی شناخت الطاف احمد کے نام سے کی گئی ہے۔
بیٹی اور نوجوان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا
ابتدائی پولیس معلومات کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر غیرت کے نام پر پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد عبداللہ نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی بشیرا اور نوجوان الطاف احمد کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں مقتولین کی لاشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاکہ قتل کے اصل محرکات، واقعے کی مکمل تفصیلات اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کا تعین کیا جاسکے۔
مقتولہ کا والد گرفتار
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث مقتولہ کے والد عبداللہ کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے اور واقعے میں استعمال ہونے والے اسلحے سمیت دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے جارہے ہیں۔پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ واقعے کے پیچھے کیا محرکات تھے اور کیا اس میں کوئی اور شخص بھی ملوث ہے۔
ایک ہفتے میں 4 خواتین کے قتل کے واقعات
شکارپور میں غیرت کے نام پر ہونے والے حالیہ واقعات نے تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ضلع میں غیرت کے نام پر 4 خواتین کے قتل کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔موجودہ واقعے میں ایک نوجوان بھی قتل ہوا ہے، جس کے باعث معاملہ دوہرے قتل کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں عموماً خاندانی یا ذاتی معاملات کو بنیاد بنا کر خواتین اور دیگر افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاہم موجودہ واقعے کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کے حوالے سے حتمی صورتحال پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔