بحرِ اوقیانوس میں امریکی افواج نے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کارروائی کے فوراً بعد روسی وزارت خارجہ نے اسے بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا اور مطالبہ کیا کہ امریکی افواج جہاز پر موجود روسی عملے کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور انہیں جلد از جلد واپس روانہ کریں۔
برطانیہ کی شمولیت:
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے اس بات کی تصدیق کی کہ برطانیہ نے اس امریکی آپریشن میں تعاون فراہم کیا۔ ان کے مطابق:
برطانوی مسلح افواج نے اس مشن میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ صلاحیتیں دکھائیں۔
تعاون بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں تھا اور امریکا کی درخواست پر کیا گیا۔
برطانیہ اور امریکا نے مل کر روسی آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کا عمل مکمل کیا۔
عملی پہلو:
امریکی اور برطانوی افواج نے مل کر جہاز پر کنٹرول حاصل کیا۔
جہاز پر موجود روسی عملے کی حفاظت اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی یقینی بنائی گئی۔
اس اقدام کے بعد عالمی سطح پر قانونی، سیاسی اور سفارتی پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔
روس کا ردعمل:
روس نے اس قبضے کی شدید مذمت کی۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور انہوں نے فوری طور پر روسی عملے کی حفاظت اور جہاز کی واپسی کا مطالبہ کیا۔